الحديد 57:20 اعلموا انما الحياة الدنيا لعب ولهو وزينة وتفاخر بينكم وتكاثر في الاموال والاولاد كمثل غيث اعجب الكفار نباته ثم يهيج فتراه مصفرا ثم يكون حطاما وفي الاخرة عذاب شديد ومغفرة من الله ورضوان وما الحياة الدنيا الا متاع الغرور ٢٠
اِعْلَمُوْۤا
اَنَّمَا
الْحَیٰوةُ
الدُّنْیَا
لَعِبٌ
وَّلَهْوٌ
وَّزِیْنَةٌ
وَّتَفَاخُرٌ
بَیْنَكُمْ
وَتَكَاثُرٌ
فِی
الْاَمْوَالِ
وَالْاَوْلَادِ ؕ
كَمَثَلِ
غَیْثٍ
اَعْجَبَ
الْكُفَّارَ
نَبَاتُهٗ
ثُمَّ
یَهِیْجُ
فَتَرٰىهُ
مُصْفَرًّا
ثُمَّ
یَكُوْنُ
حُطَامًا ؕ
وَفِی
الْاٰخِرَةِ
عَذَابٌ
شَدِیْدٌ ۙ
وَّمَغْفِرَةٌ
مِّنَ
اللّٰهِ
وَرِضْوَانٌ ؕ
وَمَا
الْحَیٰوةُ
الدُّنْیَاۤ
اِلَّا
مَتَاعُ
الْغُرُوْرِ
۟
خوب جان لو کہ یہ دنیا کی زندگی اس کے سوا کچھ نہیں کہ ایک کھیل دل لگی کا سامان اور ظاہری ٹیپ ٹاپ ہے اور تمہارا آپس میں ایک دوسرے پر فخر جتانا اور مال و اولاد میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش ہے۔ (انسانی زندگی کی مثال ایسے ہے) جیسے بارش برستی ہے تو اس سے پیدا ہونے والی روئیدگی کسانوں کو بہت اچھی لگتی ہے پھر وہ کھیتی اپنی پوری قوت پر آتی ہے پھر تم دیکھتے ہو کہ وہ زرد ہوجاتی ہے پھر وہ کٹ کر چورا چورا ہوجاتی ہے۔ اور آخرت میں بہت سخت عذاب ہے اور (یا پھر) اللہ کی طرف سے مغفرت اور (اس کی) رضا ہے۔ اور دنیا کی زندگی تو سوائے دھوکے کے ساز و سامان کے اور کچھ نہیں ہے۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
دنیا کی زندگی صرف کھیل تماشا ہے ٭٭…
امر دنیا کی تحقیر و توہین بیان ہو رہی ہے کہ ” اہل دنیا کو سوائے لہو و لعب زینت و فخر اور اولاد و مال کی کثرت کی چاہت کے اور ہے بھی کیا؟“ جیسے اور آیت میں ہے «زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَاتِ مِنَ النِّسَاءِ وَالْبَنِينَ وَالْقَنَاطِيرِ الْمُقَنطَرَةِ مِنَ الذَّ
دنیا کی زندگی صرف کھیل تماشا ہے ٭٭…
امر دنیا کی تحقیر و توہین بیان ہو رہی ہے کہ ” اہل دنیا کو سوائے لہو و لعب زینت و فخر اور اولاد و مال کی کثرت کی چاہت