الحديد 57:27 ثم قفينا على اثارهم برسلنا وقفينا بعيسى ابن مريم واتيناه الانجيل وجعلنا في قلوب الذين اتبعوه رافة ورحمة ورهبانية ابتدعوها ما كتبناها عليهم الا ابتغاء رضوان الله فما رعوها حق رعايتها فاتينا الذين امنوا منهم اجرهم وكثير منهم فاسقون ٢٧
ثُمَّ
قَفَّیْنَا
عَلٰۤی
اٰثَارِهِمْ
بِرُسُلِنَا
وَقَفَّیْنَا
بِعِیْسَی
ابْنِ
مَرْیَمَ
وَاٰتَیْنٰهُ
الْاِنْجِیْلَ ۙ۬
وَجَعَلْنَا
فِیْ
قُلُوْبِ
الَّذِیْنَ
اتَّبَعُوْهُ
رَاْفَةً
وَّرَحْمَةً ؕ
وَرَهْبَانِیَّةَ
بْتَدَعُوْهَا
مَا
كَتَبْنٰهَا
عَلَیْهِمْ
اِلَّا
ابْتِغَآءَ
رِضْوَانِ
اللّٰهِ
فَمَا
رَعَوْهَا
حَقَّ
رِعَایَتِهَا ۚ
فَاٰتَیْنَا
الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا
مِنْهُمْ
اَجْرَهُمْ ۚ
وَكَثِیْرٌ
مِّنْهُمْ
فٰسِقُوْنَ
۟
ان کے بعد پھر بھی ہم اپنے رسولوں کو پے در پے بھیجتے رہے اور ان کے بعد عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کو بھیجا اور انہیں انجیل عطا فرمائی اور ان کے ماننے والوں کے دلوں میں شفقت اور رحم پیدا کردیا1 ہاں رہبانیت (ترک دنیا) تو ان لوگوں نے ازخود ایجاد کرلی تھی ہم نے ان پر اسے واجب نہ کیا2 تھا سوائے اللہ کی رضاجوئی کے3۔ سو انہوں نے اس کی پوری رعایت نہ کی4، پھر بھی ہم نے ان میں سے جو ایمان ﻻئے تھے۔ انہیں ان کا اجر دیا5 اور ان میں زیاده تر لوگ نافرمان ہیں.6
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
نوح علیہ السلام اور ابراہیم علیہ السلام کی فضیلت ٭٭…
نوح علیہ السلام اور ابراہیم علیہ السلام کی اس فضیلت کو دیکھئے کہ نوح علیہ السلام کے بعد سے لے کر ابراہیم علیہ السلام تک جتنے پیغمبر آئے سب آپ علیہ السلام ہی کی نسل سے آئے اور پھر ابراہیم علیہ السلام کے بعد جتنے نبی اور رسول آئے سب کے سب آپ علیہ السل
نوح علیہ السلام اور ابراہیم علیہ السلام کی فضیلت ٭٭…
نوح علیہ السلام اور ابراہیم علیہ السلام کی اس فضیلت کو دیکھئے کہ نوح علیہ السلام کے بعد سے لے کر اب