الحديد 57:4 هو الذي خلق السماوات والارض في ستة ايام ثم استوى على العرش يعلم ما يلج في الارض وما يخرج منها وما ينزل من السماء وما يعرج فيها وهو معكم اين ما كنتم والله بما تعملون بصير ٤
هُوَ
الَّذِیْ
خَلَقَ
السَّمٰوٰتِ
وَالْاَرْضَ
فِیْ
سِتَّةِ
اَیَّامٍ
ثُمَّ
اسْتَوٰی
عَلَی
الْعَرْشِ ؕ
یَعْلَمُ
مَا
یَلِجُ
فِی
الْاَرْضِ
وَمَا
یَخْرُجُ
مِنْهَا
وَمَا
یَنْزِلُ
مِنَ
السَّمَآءِ
وَمَا
یَعْرُجُ
فِیْهَا ؕ
وَهُوَ
مَعَكُمْ
اَیْنَ
مَا
كُنْتُمْ ؕ
وَاللّٰهُ
بِمَا
تَعْمَلُوْنَ
بَصِیْرٌ
۟
وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا پھر عرش پر مستوی1 ہو گیا۔ وه (خوب) جانتا ہےاس چیز کو جو زمین میں جائے2 اور جو اس سے نکلے3 اور جو آسمان سے نیچے آئے4 اور جو کچھ چڑھ کر اس میں جائے5، اور جہاں کہیں تم ہو وه تمہارے ساتھ ہے6 اور جو تم کر رہے ہو اللہ دیکھ رہا ہے.
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
ہر چیز کا خالق و مالک اللہ ہے ٭٭…
اللہ تعالیٰ کا زمین و آسمان کو چھ دن میں پیدا کرنا اور عرش پر قرار پکڑنا «هُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ» [57-الحديد:4] سورۃ الاعراف کی تفسیر میں پوری طرح بیان ہو چکا ہے اس لیے یہاں دوبارہ بیان ک
ہر چیز کا خالق و مالک اللہ ہے ٭٭…
اللہ تعالیٰ کا زمین و آسمان کو چھ دن میں پیدا کرنا اور عرش پر قرار پکڑنا «هُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ