الحج 22:15 من كان يظن ان لن ينصره الله في الدنيا والاخرة فليمدد بسبب الى السماء ثم ليقطع فلينظر هل يذهبن كيده ما يغيظ ١٥
مَنْ
كَانَ
یَظُنُّ
اَنْ
لَّنْ
یَّنْصُرَهُ
اللّٰهُ
فِی
الدُّنْیَا
وَالْاٰخِرَةِ
فَلْیَمْدُدْ
بِسَبَبٍ
اِلَی
السَّمَآءِ
ثُمَّ
لْیَقْطَعْ
فَلْیَنْظُرْ
هَلْ
یُذْهِبَنَّ
كَیْدُهٗ
مَا
یَغِیْظُ
۟
جس کا یہ خیال ہو کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کی مدد دونوں جہان میں نہ کرے گا وه اونچائی پر ایک رسہ باندھ کر (اپنے حلق میں پھنده ڈال کر اپنا گلا گھونٹ لے) پھر دیکھ لے کہ اس کی چاﻻکیوں سے وه بات ہٹ جاتی ہے جو اسے تڑپا1 رہی ہے؟
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
مخالفین نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہلاک ہوں ٭٭…
یعنی جو یہ جان رہا ہے کہ ” اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد نہ دنیا میں کرے گا نہ آخرت میں وہ یقین مانے کہ اس کا یہ خیال محض خیال ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد ہو کر ہی رہے گی چاہے ایسا شخص اپنے غصے میں ہار ہی جائے بلکہ اسے چاہے کہ
مخالفین نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہلاک ہوں ٭٭…
یعنی جو یہ جان رہا ہے کہ ” اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد نہ دنیا میں کرے گا نہ آخرت