الحج 22:2 يوم ترونها تذهل كل مرضعة عما ارضعت وتضع كل ذات حمل حملها وترى الناس سكارى وما هم بسكارى ولاكن عذاب الله شديد ٢
یَوْمَ
تَرَوْنَهَا
تَذْهَلُ
كُلُّ
مُرْضِعَةٍ
عَمَّاۤ
اَرْضَعَتْ
وَتَضَعُ
كُلُّ
ذَاتِ
حَمْلٍ
حَمْلَهَا
وَتَرَی
النَّاسَ
سُكٰرٰی
وَمَا
هُمْ
بِسُكٰرٰی
وَلٰكِنَّ
عَذَابَ
اللّٰهِ
شَدِیْدٌ
۟
(اے مخاطب) جس دن تو اس کو دیکھے گا (اُس دن یہ حال ہوگا کہ) تمام دودھ پلانے والی عورتیں اپنے بچوں کو بھول جائیں گی۔ اور تمام حمل والیوں کے حمل گر پڑیں گے۔ اور لوگ تجھ کو متوالے نظر آئیں گے مگر وہ متوالے نہیں ہوں گے بلکہ (عذاب دیکھ کر) مدہوش ہو رہے ہوں گے۔ بےشک خدا کا عذاب بڑا سخت ہے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
دعوت تقویٰ ٭٭…
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو تقوے کا حکم فرماتا ہے اور آنے والے دہشت ناک امور سے ڈرا رہا ہے خصوصاً قیامت کے زلزلے سے۔ اس سے مراد یا تو وہ زلزلہ ہے جو قیامت کے قائم ہونے کے درمیان آئے گا۔
جیسے فرمان ہے آیت «إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا وَأَخْرَجَتِ الْأَرْضُ أَثْقَالَهَا» [9
دعوت تقویٰ ٭٭…
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو تقوے کا حکم فرماتا ہے اور آنے والے دہشت ناک امور سے ڈرا رہا ہے خصوصاً قیامت کے زلزلے سے۔ اس سے مراد یا تو وہ زل