الحج 22:30 ذالك ومن يعظم حرمات الله فهو خير له عند ربه واحلت لكم الانعام الا ما يتلى عليكم فاجتنبوا الرجس من الاوثان واجتنبوا قول الزور ٣٠
ذٰلِكَ ۗ
وَمَنْ
یُّعَظِّمْ
حُرُمٰتِ
اللّٰهِ
فَهُوَ
خَیْرٌ
لَّهٗ
عِنْدَ
رَبِّهٖ ؕ
وَاُحِلَّتْ
لَكُمُ
الْاَنْعَامُ
اِلَّا
مَا
یُتْلٰی
عَلَیْكُمْ
فَاجْتَنِبُوا
الرِّجْسَ
مِنَ
الْاَوْثَانِ
وَاجْتَنِبُوْا
قَوْلَ
الزُّوْرِ
۟ۙ
یہ ہے اور جو کوئی اللہ کی حرمتوں1 کی تعظیم کرے اس کے اپنے لئے اس کے رب کے پاس بہتری ہے۔ اور تمہارے لئے چوپائے جانور حلال کر دیئے گئے بجز ان کے جو تمہارے سامنے2 بیان کیے گئے ہیں پس تمہیں بتوں کی گندگی سے بچتے رہنا چاہئے3 اور جھوٹی بات سے بھی پرہیز کرنا چاہئے.4
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
بت پرستی کی گندگی سے دور رہو ٭٭…
فرماتا ہے یہ تو تھے احکام حج اور ان پر جو جزا ملتی ہے اس کا بیان۔ اب اور سنو جو شخص حرمات الٰہی کی عزت کرے یعنی گناہوں سے اور حرام کاموں سے بچے، ان کے کرنے سے اپنے آپ کو روکے اور ان سے بھاگا رہے اس کے لیے اللہ کے پاس بڑا اجر ہے۔ جس طرح نیکیوں کے کرنے پر اجر ہے اسی طرح
بت پرستی کی گندگی سے دور رہو ٭٭…
فرماتا ہے یہ تو تھے احکام حج اور ان پر جو جزا ملتی ہے اس کا بیان۔ اب اور سنو جو شخص حرمات الٰہی کی عزت کرے یعنی گناہوں