الحشر 59:6 وما افاء الله على رسوله منهم فما اوجفتم عليه من خيل ولا ركاب ولاكن الله يسلط رسله على من يشاء والله على كل شيء قدير ٦
وَمَاۤ
اَفَآءَ
اللّٰهُ
عَلٰی
رَسُوْلِهٖ
مِنْهُمْ
فَمَاۤ
اَوْجَفْتُمْ
عَلَیْهِ
مِنْ
خَیْلٍ
وَّلَا
رِكَابٍ
وَّلٰكِنَّ
اللّٰهَ
یُسَلِّطُ
رُسُلَهٗ
عَلٰی
مَنْ
یَّشَآءُ ؕ
وَاللّٰهُ
عَلٰی
كُلِّ
شَیْءٍ
قَدِیْرٌ
۟
اور جو مال اللہ نے اُن کے قبضے سے نکال کر اپنے رسُول کی طرف پلٹا دیے، 1 وہ ایسے مال نہیں ہیں جن پر تم نے اپنے گھوڑے اور اُونٹ دوڑائے ہوں، بلکہ اللہ اپنے رسُولوں کو جس پر چاہتا ہےتسلّط فرما دیتا ہے، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ 2
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
مال فے کی تعریف وضاحت اور حکم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعمیل ہی اصل ایمان ہے ٭٭…
«فے» کس مال کو کہتے ہیں؟، اس کی صفت کیا ہے؟، اس کا حکم کیا ہے؟، یہ سب یہاں بیان ہو رہا ہے۔ «فے» اس مال کو کہتے ہیں جو دشمن سے لڑے بھڑے بغیر مسلمانوں کے قبضے میں آ جائے، جیسے بنو نضیر کا یہ مال تھا جس کا ذکر اوپر گز
مال فے کی تعریف وضاحت اور حکم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعمیل ہی اصل ایمان ہے ٭٭…
«فے» کس مال کو کہتے ہیں؟، اس کی صفت کیا ہے؟، اس کا حکم کیا ہے؟، یہ