الحشر 59:7 ما افاء الله على رسوله من اهل القرى فلله وللرسول ولذي القربى واليتامى والمساكين وابن السبيل كي لا يكون دولة بين الاغنياء منكم وما اتاكم الرسول فخذوه وما نهاكم عنه فانتهوا واتقوا الله ان الله شديد العقاب ٧
مَاۤ
اَفَآءَ
اللّٰهُ
عَلٰی
رَسُوْلِهٖ
مِنْ
اَهْلِ
الْقُرٰی
فَلِلّٰهِ
وَلِلرَّسُوْلِ
وَلِذِی
الْقُرْبٰی
وَالْیَتٰمٰی
وَالْمَسٰكِیْنِ
وَابْنِ
السَّبِیْلِ ۙ
كَیْ
لَا
یَكُوْنَ
دُوْلَةً
بَیْنَ
الْاَغْنِیَآءِ
مِنْكُمْ ؕ
وَمَاۤ
اٰتٰىكُمُ
الرَّسُوْلُ
فَخُذُوْهُ ۗ
وَمَا
نَهٰىكُمْ
عَنْهُ
فَانْتَهُوْا ۚ
وَاتَّقُوا
اللّٰهَ ؕ
اِنَّ
اللّٰهَ
شَدِیْدُ
الْعِقَابِ
۟ۘ
بستیوں والوں کا جو (مال) اللہ تعالیٰ تمہارے لڑے بھڑے بغیر اپنے رسول کے ہاتھ لگائے وه اللہ کا ہے اور رسول کا اور قرابت والوں کا اور یتیموں مسکینوں کا اور مسافروں کا ہے تاکہ تمہارے دولت مندوں کے ہاتھ میں ہی یہ مال گردش کرتا نہ ره جائے اور تمہیں جو کچھ رسول دے لے لو، اور جس سے روکے رک جاؤ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہا کرو، یقیناً اللہ تعالیٰ سخت عذاب واﻻ ہے.
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
مال فے کی تعریف وضاحت اور حکم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعمیل ہی اصل ایمان ہے ٭٭…
«فے» کس مال کو کہتے ہیں؟، اس کی صفت کیا ہے؟، اس کا حکم کیا ہے؟، یہ سب یہاں بیان ہو رہا ہے۔ «فے» اس مال کو کہتے ہیں جو دشمن سے لڑے بھڑے بغیر مسلمانوں کے قبضے میں آ جائے، جیسے بنو نضیر کا یہ مال تھا جس کا ذکر اوپر گز
مال فے کی تعریف وضاحت اور حکم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعمیل ہی اصل ایمان ہے ٭٭…
«فے» کس مال کو کہتے ہیں؟، اس کی صفت کیا ہے؟، اس کا حکم کیا ہے؟، یہ