الحشر 59:8 للفقراء المهاجرين الذين اخرجوا من ديارهم واموالهم يبتغون فضلا من الله ورضوانا وينصرون الله ورسوله اولايك هم الصادقون ٨
لِلْفُقَرَآءِ
الْمُهٰجِرِیْنَ
الَّذِیْنَ
اُخْرِجُوْا
مِنْ
دِیَارِهِمْ
وَاَمْوَالِهِمْ
یَبْتَغُوْنَ
فَضْلًا
مِّنَ
اللّٰهِ
وَرِضْوَانًا
وَّیَنْصُرُوْنَ
اللّٰهَ
وَرَسُوْلَهٗ ؕ
اُولٰٓىِٕكَ
هُمُ
الصّٰدِقُوْنَ
۟ۚ
(اور) ان مفلسان تارک الوطن کے لئے بھی جو اپنے گھروں اور مالوں سے خارج (اور جدا) کر دیئے گئے ہیں (اور) خدا کے فضل اور اس کی خوشنودی کے طلبگار اور خدا اور اس کے پیغمبر کے مددگار ہیں۔ یہی لوگ سچے (ایماندار) ہیں
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
مال فے کے حقدار ٭٭…
اوپر بیان ہوا تھا کہ «فے» کا مال یعنی کافروں کا جو مال مسلمانوں کے قبضے میں میدان جنگ میں لڑے بھڑے بغیر آ گیا ہو اس کے مالک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ مال کسے دیں گے؟ اس کا بیان ہو رہا ہے کہ اس کے حقدار وہ غریب مہاجر ہیں، جنہوں نے اللہ کو ر
مال فے کے حقدار ٭٭…
اوپر بیان ہوا تھا کہ «فے» کا مال یعنی کافروں کا جو مال مسلمانوں کے قبضے میں میدان جنگ میں لڑے بھڑے بغیر آ گیا ہو اس کے مالک رسول ا