الحشر 59:9 والذين تبوءوا الدار والايمان من قبلهم يحبون من هاجر اليهم ولا يجدون في صدورهم حاجة مما اوتوا ويوثرون على انفسهم ولو كان بهم خصاصة ومن يوق شح نفسه فاولايك هم المفلحون ٩
وَالَّذِیْنَ
تَبَوَّؤُ
الدَّارَ
وَالْاِیْمَانَ
مِنْ
قَبْلِهِمْ
یُحِبُّوْنَ
مَنْ
هَاجَرَ
اِلَیْهِمْ
وَلَا
یَجِدُوْنَ
فِیْ
صُدُوْرِهِمْ
حَاجَةً
مِّمَّاۤ
اُوْتُوْا
وَیُؤْثِرُوْنَ
عَلٰۤی
اَنْفُسِهِمْ
وَلَوْ
كَانَ
بِهِمْ
خَصَاصَةٌ ۫ؕ
وَمَنْ
یُّوْقَ
شُحَّ
نَفْسِهٖ
فَاُولٰٓىِٕكَ
هُمُ
الْمُفْلِحُوْنَ
۟ۚ
اور (ان کے لیے) جنہوں نے اس گھر میں (یعنی مدینہ) اور ایمان میں ان سے پہلے جگہ بنالی ہے1 اور اپنی طرف ہجرت کرکے آنے والوں سے محبت کرتے ہیں اور مہاجرین کو جو کچھ دے دیا جائے اس سے وه اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہیں رکھتے2 بلکہ خود اپنے اوپر انہیں ترجیح دیتے ہیں گو خود کو کتنی ہی 3سخت حاجت ہو (بات یہ ہے) کہ جو بھی اپنے نفس کے بخل سے بچایا گیا وہی کامیاب (اور بامراد) ہے.4
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
مال فے کے حقدار ٭٭…
اوپر بیان ہوا تھا کہ «فے» کا مال یعنی کافروں کا جو مال مسلمانوں کے قبضے میں میدان جنگ میں لڑے بھڑے بغیر آ گیا ہو اس کے مالک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ مال کسے دیں گے؟ اس کا بیان ہو رہا ہے کہ اس کے حقدار وہ غریب مہاجر ہیں، جنہوں نے اللہ کو ر
مال فے کے حقدار ٭٭…
اوپر بیان ہوا تھا کہ «فے» کا مال یعنی کافروں کا جو مال مسلمانوں کے قبضے میں میدان جنگ میں لڑے بھڑے بغیر آ گیا ہو اس کے مالک رسول ا