الحجرات 49:12 يا ايها الذين امنوا اجتنبوا كثيرا من الظن ان بعض الظن اثم ولا تجسسوا ولا يغتب بعضكم بعضا ايحب احدكم ان ياكل لحم اخيه ميتا فكرهتموه واتقوا الله ان الله تواب رحيم ١٢
یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ
اٰمَنُوا
اجْتَنِبُوْا
كَثِیْرًا
مِّنَ
الظَّنِّ ؗ
اِنَّ
بَعْضَ
الظَّنِّ
اِثْمٌ
وَّلَا
تَجَسَّسُوْا
وَلَا
یَغْتَبْ
بَّعْضُكُمْ
بَعْضًا ؕ
اَیُحِبُّ
اَحَدُكُمْ
اَنْ
یَّاْكُلَ
لَحْمَ
اَخِیْهِ
مَیْتًا
فَكَرِهْتُمُوْهُ ؕ
وَاتَّقُوا
اللّٰهَ ؕ
اِنَّ
اللّٰهَ
تَوَّابٌ
رَّحِیْمٌ
۟
اے اہل ِایمان ! زیادہ گمان کرنے سے بچو بیشک بعض گمان گناہ ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے حالات کی ٹوہ میں نہ رہا کرو اور تم میں سے کوئی دوسرے کی غیبت نہ کرے۔ کیا تم میں سے کوئی شخص پسند کرے گا کہ اپنے ُ مردہ بھائی کا گوشت کھائے ؟ یہ تو تمہیں بہت ناگوار لگا اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اللہ تو بہ کا بہت قبول فرمانے والا اور بہت رحم فرمانے والا ہے۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
مذاق اور عیب گیری کی ممانعت ٭٭…
اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو بدگمانی کرنے، تہمت رکھنے اپنوں اور غیروں کو خوفزدہ کرنے، خواہ مخواہ کی دہشت دل میں رکھ لینے سے روکتا ہے اور فرماتا ہے کہ بسا اوقات اکثر اس قسم کے گمان بالکل گناہ ہوتے ہیں پس تمہیں اس میں پوری احتیاط چاہیئے۔
سیدنا امیر المؤمنین عمر بن خطاب
مذاق اور عیب گیری کی ممانعت ٭٭…
اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو بدگمانی کرنے، تہمت رکھنے اپنوں اور غیروں کو خوفزدہ کرنے، خواہ مخواہ کی دہشت دل میں رکھ لی