الإسراء 17:18 من كان يريد العاجلة عجلنا له فيها ما نشاء لمن نريد ثم جعلنا له جهنم يصلاها مذموما مدحورا ١٨
مَنْ
كَانَ
یُرِیْدُ
الْعَاجِلَةَ
عَجَّلْنَا
لَهٗ
فِیْهَا
مَا
نَشَآءُ
لِمَنْ
نُّرِیْدُ
ثُمَّ
جَعَلْنَا
لَهٗ
جَهَنَّمَ ۚ
یَصْلٰىهَا
مَذْمُوْمًا
مَّدْحُوْرًا
۟
جو کوئی (اس دنیا میں) جلدی حاصل والے فائدوں کا خواہش مند ہو ، اسے یہیں ہم دے دیتے ہیں جو کچھ سبھی جسے دینا چاہیں ، پھر ا کے مقسوم میں جہنم لکھ دیتے ہیں جسے وہ تاپے گا ، ملامت زدہ اور رحمت سے محروم ہو کر۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
طالب دنیا کی چاہت ٭٭…
کچھ ضروری نہیں کہ طالب دنیا کی ہر ایک چاہت پوری ہو، جس کا جو ارادہ اللہ پورا کرنا چاہے کر دے لیکن ہاں ایسے لوگ آخرت میں خالی ہاتھ رہ جائیں گے۔ یہ تو وہاں جہنم کے گڑھے میں گھرے ہوئے ہوں گے نہایت برے حال میں ذلت و خواری میں ہوں گے۔ کیونکہ یہاں انہوں نے یہی کیا تھا، فانی کو باقی پر
طالب دنیا کی چاہت ٭٭…
کچھ ضروری نہیں کہ طالب دنیا کی ہر ایک چاہت پوری ہو، جس کا جو ارادہ اللہ پورا کرنا چاہے کر دے لیکن ہاں ایسے لوگ آخرت میں خالی ہاتھ