الإسراء 17:20 كلا نمد هاولاء وهاولاء من عطاء ربك وما كان عطاء ربك محظورا ٢٠
كُلًّا
نُّمِدُّ
هٰۤؤُلَآءِ
وَهٰۤؤُلَآءِ
مِنْ
عَطَآءِ
رَبِّكَ ؕ
وَمَا
كَانَ
عَطَآءُ
رَبِّكَ
مَحْظُوْرًا
۟
ہر ایک کو ہم بہم پہنچائے جاتے ہیں انہیں بھی اور ا نہیں بھی تیرے پروردگار کے انعامات میں سے۔ تیرے پروردگار کی بخشش رکی ہوئی نہیں ہے.1
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
حق دار کو حق دیا جاتا ہے ٭٭…
یعنی ان دونوں قسم کے لوگوں کو ایک وہ جن کا مطلب صرف دنیا ہے دوسرے وہ جو طالب آخرت ہیں دونوں قسم کے لوگوں کو ہم بڑھاتے رہتے ہیں جس میں بھی وہ ہیں، یہ تیرے رب کی عطا ہے، وہ ایسا متصرف اور حاکم ہے جو کبھی ظلم نہیں کرتا۔ مستحق سعادت کو سعادت اور مستحق شقاوت کو شقاوت دے دیتا ہے
حق دار کو حق دیا جاتا ہے ٭٭…
یعنی ان دونوں قسم کے لوگوں کو ایک وہ جن کا مطلب صرف دنیا ہے دوسرے وہ جو طالب آخرت ہیں دونوں قسم کے لوگوں کو ہم بڑھاتے رہتے