الإسراء 17:29 ولا تجعل يدك مغلولة الى عنقك ولا تبسطها كل البسط فتقعد ملوما محسورا ٢٩
وَلَا
تَجْعَلْ
یَدَكَ
مَغْلُوْلَةً
اِلٰی
عُنُقِكَ
وَلَا
تَبْسُطْهَا
كُلَّ
الْبَسْطِ
فَتَقْعُدَ
مَلُوْمًا
مَّحْسُوْرًا
۟
اور اپنے ہاتھ کو نہ تو گردن سے بندھا ہوا (یعنی بہت تنگ) کرلو (کہ کسی کچھ دو ہی نہیں) اور نہ بالکل کھول ہی دو (کہ سبھی دے ڈالو اور انجام یہ ہو) کہ ملامت زدہ اور درماندہ ہو کر بیٹھ جاؤ
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
میانہ روی کی تعلیم ٭٭…
حکم ہو رہا ہے کہ اپنی زندگی میں میانہ روش رکھو نہ بخیل بنو نہ مسرف۔ ہاتھ گردن سے نہ باندھ لو یعنی بخیل نہ بنو کہ کسی کو نہ دو۔ یہودیوں نے بھی اسی محاورے کو استعمال کیا ہے اور کہا ہے کہ «وَقَالَتِ الْيَهُودُ يَدُ اللَّـهِ مَغْلُولَةٌ» ” اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ “ [5-المائ
میانہ روی کی تعلیم ٭٭…
حکم ہو رہا ہے کہ اپنی زندگی میں میانہ روش رکھو نہ بخیل بنو نہ مسرف۔ ہاتھ گردن سے نہ باندھ لو یعنی بخیل نہ بنو کہ کسی کو نہ دو۔ یہ