الإسراء 17:33 ولا تقتلوا النفس التي حرم الله الا بالحق ومن قتل مظلوما فقد جعلنا لوليه سلطانا فلا يسرف في القتل انه كان منصورا ٣٣
وَلَا
تَقْتُلُوا
النَّفْسَ
الَّتِیْ
حَرَّمَ
اللّٰهُ
اِلَّا
بِالْحَقِّ ؕ
وَمَنْ
قُتِلَ
مَظْلُوْمًا
فَقَدْ
جَعَلْنَا
لِوَلِیِّهٖ
سُلْطٰنًا
فَلَا
یُسْرِفْ
فِّی
الْقَتْلِ ؕ
اِنَّهٗ
كَانَ
مَنْصُوْرًا
۟
اور جس کا جاندار کا مارنا خدا نے حرام کیا ہے اسے قتل نہ کرنا مگر جائز طور پر (یعنی بفتویٰ شریعت)۔ اور جو شخص ظلم سے قتل کیا جائے ہم نے اس کے وارث کو اختیار دیا ہے (کہ ظالم قاتل سے بدلہ لے) تو اس کو چاہیئے کہ قتل (کے قصاص) میں زیادتی نہ کرے کہ وہ منصورو فتحیاب ہے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
ناحق قتل ٭٭…
بغیر حق شرعی کے کسی کو قتل کرنا حرام ہے۔ بخاری مسلم میں ہے جو مسلمان اللہ کے واحد ہونے کی اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے کی شہادت دیتا ہو اس کا قتل تین باتوں کے سوا حلال نہیں۔ یا تو اس نے کسی کو قتل کیا ہو یا شادی شدہ ہو اور پھر زنا کیا ہو یا دین کو چھوڑ کر جماعت کو چھوڑ دیا
ناحق قتل ٭٭…
بغیر حق شرعی کے کسی کو قتل کرنا حرام ہے۔ بخاری مسلم میں ہے جو مسلمان اللہ کے واحد ہونے کی اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے کی شہ