الإسراء 17:34 ولا تقربوا مال اليتيم الا بالتي هي احسن حتى يبلغ اشده واوفوا بالعهد ان العهد كان مسيولا ٣٤
وَلَا
تَقْرَبُوْا
مَالَ
الْیَتِیْمِ
اِلَّا
بِالَّتِیْ
هِیَ
اَحْسَنُ
حَتّٰی
یَبْلُغَ
اَشُدَّهٗ ۪
وَاَوْفُوْا
بِالْعَهْدِ ۚ
اِنَّ
الْعَهْدَ
كَانَ
مَسْـُٔوْلًا
۟
اور یتیم کے مال کے قریب بھی نہ جاؤ بجز اس طریقہ کے جو بہت ہی بہتر ہو، یہاں تک کہ وه اپنی بلوغت کو پہنچ جائے1 اور وعدے پورے کرو کیونکہ قول وقرار کی باز پرس ہونے والی ہے.2
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
یتیم کا مال ٭٭…
یتیم کے مال میں بد نیتی سے ہیر پھیر نہ کرو، «وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَهُمْ إِلَىٰ أَمْوَالِكُمْ ۚ إِنَّهُ كَانَ حُوبًا كَبِيرًا» [4-النساء:2] ان کے مال ان کی بلوغت سے پہلے صاف کر ڈالنے کے ناپاک ارادوں سے بچو۔
«وَلَا تَأْكُلُوهَا إِسْرَافًا وَبِدَارًا أَن يَكْبَرُوا ۚ وَمَن كَ
یتیم کا مال ٭٭…
یتیم کے مال میں بد نیتی سے ہیر پھیر نہ کرو، «وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَهُمْ إِلَىٰ أَمْوَالِكُمْ ۚ إِنَّهُ كَانَ حُوبًا كَبِيرًا» [