الإسراء 17:4 وقضينا الى بني اسراييل في الكتاب لتفسدن في الارض مرتين ولتعلن علوا كبيرا ٤
وَقَضَیْنَاۤ
اِلٰی
بَنِیْۤ
اِسْرَآءِیْلَ
فِی
الْكِتٰبِ
لَتُفْسِدُنَّ
فِی
الْاَرْضِ
مَرَّتَیْنِ
وَلَتَعْلُنَّ
عُلُوًّا
كَبِیْرًا
۟
پھر ہم نے اپنی کتاب 1میں بنی اسرائیل کو اِس بات پر بھی متنبہ کر دیا تھا کہ تم دو مرتبہ زمین میں فسادِ عظیم برپا کرو گے اور بڑی سرکشی دکھاوٴ گے۔2
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
پیشین گوئی ٭٭…
جو کتاب بنی اسرائیل پر اتری تھی اس میں ہی اللہ تعالیٰ نے انہیں پہلے ہی سے خبر دے دی تھی کہ وہ زمین پر دو مرتبہ سرکشی کریں گے اور سخت فساد برپا کریں گے پس یہاں پر «قضینا» کے معنی مقرر کر دینا اور پہلے ہی سے خبر دے دینا کے ہیں۔ جیسے آیت «وَقَضَيْنَا إِلَيْهِ ذَٰلِكَ الْأَمْرَ أَنَّ دَا
پیشین گوئی ٭٭…
جو کتاب بنی اسرائیل پر اتری تھی اس میں ہی اللہ تعالیٰ نے انہیں پہلے ہی سے خبر دے دی تھی کہ وہ زمین پر دو مرتبہ سرکشی کریں گے اور سخت فساد