الإسراء 17:45 واذا قرات القران جعلنا بينك وبين الذين لا يومنون بالاخرة حجابا مستورا ٤٥
وَاِذَا
قَرَاْتَ
الْقُرْاٰنَ
جَعَلْنَا
بَیْنَكَ
وَبَیْنَ
الَّذِیْنَ
لَا
یُؤْمِنُوْنَ
بِالْاٰخِرَةِ
حِجَابًا
مَّسْتُوْرًا
۟ۙ
جب تم قرآن پڑھتے ہو تو ہم تمہارے اور آخرت پر ایمان نہ لانے والوں کے درمیان ایک پردہ حائل کر دیتے ہیں
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
کفار کا ایک نفسیاتی تجزیہ ٭٭…
فرماتا ہے کہ قرآن کی تلاوت کے وقت ان کے دلوں پر پردے پڑجاتے ہیں، کوئی اثر ان کے دلوں تک نہیں پہنچتا۔ وہ حجاب انہیں چھپا لیتا ہے۔ یہاں «مَّسْتُورً»، «ساتِر» کے معنی میں ہے جیسے «میمون» اور «مشئوم» معنی میں یا «من» اور «شائم» کے ہیں۔ وہ پردے گو بظاہر نظر نہ آئیں
کفار کا ایک نفسیاتی تجزیہ ٭٭…
فرماتا ہے کہ قرآن کی تلاوت کے وقت ان کے دلوں پر پردے پڑجاتے ہیں، کوئی اثر ان کے دلوں تک نہیں پہنچتا۔ وہ حجاب انہیں چھپا لی