الإسراء 17:46 وجعلنا على قلوبهم اكنة ان يفقهوه وفي اذانهم وقرا واذا ذكرت ربك في القران وحده ولوا على ادبارهم نفورا ٤٦
وَّجَعَلْنَا
عَلٰی
قُلُوْبِهِمْ
اَكِنَّةً
اَنْ
یَّفْقَهُوْهُ
وَفِیْۤ
اٰذَانِهِمْ
وَقْرًا ؕ
وَاِذَا
ذَكَرْتَ
رَبَّكَ
فِی
الْقُرْاٰنِ
وَحْدَهٗ
وَلَّوْا
عَلٰۤی
اَدْبَارِهِمْ
نُفُوْرًا
۟
اور ان کے دلوں پر ہم نے پردے ڈال دیئے ہیں کہ وه اسے سمجھیں اور ان کے کانوں میں بوجھ اور جب تو صرف اللہ ہی کا ذکر اس کی توحید کے ساتھ، اس قرآن میں کرتا ہے تو وه روگردانی کرتے پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوتے ہیں.1
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
کفار کا ایک نفسیاتی تجزیہ ٭٭…
فرماتا ہے کہ قرآن کی تلاوت کے وقت ان کے دلوں پر پردے پڑجاتے ہیں، کوئی اثر ان کے دلوں تک نہیں پہنچتا۔ وہ حجاب انہیں چھپا لیتا ہے۔ یہاں «مَّسْتُورً»، «ساتِر» کے معنی میں ہے جیسے «میمون» اور «مشئوم» معنی میں یا «من» اور «شائم» کے ہیں۔ وہ پردے گو بظاہر نظر نہ آئیں
کفار کا ایک نفسیاتی تجزیہ ٭٭…
فرماتا ہے کہ قرآن کی تلاوت کے وقت ان کے دلوں پر پردے پڑجاتے ہیں، کوئی اثر ان کے دلوں تک نہیں پہنچتا۔ وہ حجاب انہیں چھپا لی