الإسراء 17:48 انظر كيف ضربوا لك الامثال فضلوا فلا يستطيعون سبيلا ٤٨
اُنْظُرْ
كَیْفَ
ضَرَبُوْا
لَكَ
الْاَمْثَالَ
فَضَلُّوْا
فَلَا
یَسْتَطِیْعُوْنَ
سَبِیْلًا
۟
دیکھیں تو سہی، آپ کے لئے کیا کیا مثالیں بیان کرتے ہیں، پس وه بہک رہے ہیں۔ اب تو راه پانا ان کے بس میں نہیں رہا.1
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
سرداران کفر کا المیہ ٭٭…
سراداران کفر جو آپس میں باتیں بناتے تھے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچائی جا رہی ہیں کہ آپ تو تلاوت میں مشغول ہوتے ہیں یہ چپکے چپکے کہا کرتے ہیں کہ اس پر کسی نے جادو کر دیا ہے اور ہو سکتا ہے کہ یہ مطلب ہو کہ یہ تو ایک انسان ہے جو کھانے پینے کا محتاج ہے۔ گو یہ لفظ اسی
سرداران کفر کا المیہ ٭٭…
سراداران کفر جو آپس میں باتیں بناتے تھے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچائی جا رہی ہیں کہ آپ تو تلاوت میں مشغول ہوتے ہی