الإسراء 17:67 واذا مسكم الضر في البحر ضل من تدعون الا اياه فلما نجاكم الى البر اعرضتم وكان الانسان كفورا ٦٧
وَاِذَا
مَسَّكُمُ
الضُّرُّ
فِی
الْبَحْرِ
ضَلَّ
مَنْ
تَدْعُوْنَ
اِلَّاۤ
اِیَّاهُ ۚ
فَلَمَّا
نَجّٰىكُمْ
اِلَی
الْبَرِّ
اَعْرَضْتُمْ ؕ
وَكَانَ
الْاِنْسَانُ
كَفُوْرًا
۟
اور سمندروں میں مصیبت پہنچتے ہی جنہیں تم پکارتے تھے سب گم ہوجاتے ہیں صرف وہی اللہ باقی ره جاتا ہے۔ پھر جب وه تمہیں خشکی کی طرف بچا ﻻتا ہے تو تم منھ پھیر لیتے ہو اور انسان بڑا ہی ناشکرا ہے.1
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
مصیبت ختم ہوتے ہی شرک ٭٭…
اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہو رہا ہے کہ بندے مصیبت کے وقت تو خلوص کے ساتھ اپنے پروردگار کی طرف جھکتے ہیں اور اس سے دلی دعائیں کرنے لگتے ہیں اور جہاں وہ مصیبت اللہ تعالیٰ نے ٹال دی تو یہ آنکھیں پھیر لیتے ہیں۔ فتح مکہ کے وقت جب کہ ابوجہل کے لڑکے سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ حبشہ
مصیبت ختم ہوتے ہی شرک ٭٭…
اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہو رہا ہے کہ بندے مصیبت کے وقت تو خلوص کے ساتھ اپنے پروردگار کی طرف جھکتے ہیں اور اس سے دلی دعائی