الإسراء 17:68 افامنتم ان يخسف بكم جانب البر او يرسل عليكم حاصبا ثم لا تجدوا لكم وكيلا ٦٨
اَفَاَمِنْتُمْ
اَنْ
یَّخْسِفَ
بِكُمْ
جَانِبَ
الْبَرِّ
اَوْ
یُرْسِلَ
عَلَیْكُمْ
حَاصِبًا
ثُمَّ
لَا
تَجِدُوْا
لَكُمْ
وَكِیْلًا
۟ۙ
تو کیا تم اس سے بےخوف ہوگئے ہو کہ تمہیں خشکی کی طرف (لے جاکر زمین) میں دھنسا دے یا تم پر پتھروں کی آندھی بھیج دے1 ۔ پھر تم اپنے لئے کسی نگہبان کو نہ پاسکو.
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
اظہار قدرت و اختیار ٭٭…
رب العالمین لوگوں کو ڈرا رہا ہے کہ جو تری میں تمہیں ڈبو سکتا تھا، وہ خشکی میں دھنسانے کی قدرت بھی رکھتا ہے۔ پھر وہاں تو صرف اسی کو پکارنا اور یہاں اس کے ساتھ اوروں کو شریک کرنا یہ کس قدر ناانصافی ہے؟ «وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهَا حِجَارَةً مِّن سِجِّيلٍ» [11-هود:82] ” وہ تو تم
اظہار قدرت و اختیار ٭٭…
رب العالمین لوگوں کو ڈرا رہا ہے کہ جو تری میں تمہیں ڈبو سکتا تھا، وہ خشکی میں دھنسانے کی قدرت بھی رکھتا ہے۔ پھر وہاں تو صرف اسی