الإسراء 17:69 ام امنتم ان يعيدكم فيه تارة اخرى فيرسل عليكم قاصفا من الريح فيغرقكم بما كفرتم ثم لا تجدوا لكم علينا به تبيعا ٦٩
اَمْ
اَمِنْتُمْ
اَنْ
یُّعِیْدَكُمْ
فِیْهِ
تَارَةً
اُخْرٰی
فَیُرْسِلَ
عَلَیْكُمْ
قَاصِفًا
مِّنَ
الرِّیْحِ
فَیُغْرِقَكُمْ
بِمَا
كَفَرْتُمْ ۙ
ثُمَّ
لَا
تَجِدُوْا
لَكُمْ
عَلَیْنَا
بِهٖ
تَبِیْعًا
۟
کیا تم اس بات سے بےخوف ہوگئے ہو کہ اللہ تعالیٰ پھر تمہیں دوباره دریا کے سفر میں لے آئے اور تم پر تیز وتند ہواؤں کے جھونکے بھیج دے اور تمہارے کفر کے باعﺚ تمہیں ڈبو دے۔ پھر تم اپنے لئے ہم پر اس کا دعویٰ (پیچھا) کرنے واﻻ کسی کو نہ پاؤ گے.1
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
سمندر ہو یا صحرا ہر جگہ اسی کا اقتدار ہے ٭٭…
ارشاد ہو رہا ہے کہ اے منکرو! سمندر میں تم میری توحید کے قائل ہوئے باہر آکر پھر انکار کر گئے، تو کیا یہ نہیں ہو سکتا کہ پھر تم دوبارہ دریائی سفر کرو اور باد تند کے تھپیڑے تمہاری کشتی کو ڈگمگا دیں اور آخر ڈبو دیں اور تمہیں تمہارے کفر کا مزہ آ جائے، پھر تو کوئ
سمندر ہو یا صحرا ہر جگہ اسی کا اقتدار ہے ٭٭…
ارشاد ہو رہا ہے کہ اے منکرو! سمندر میں تم میری توحید کے قائل ہوئے باہر آکر پھر انکار کر گئے، تو کیا یہ نہیں