الإسراء 17:7 ان احسنتم احسنتم لانفسكم وان اساتم فلها فاذا جاء وعد الاخرة ليسوءوا وجوهكم وليدخلوا المسجد كما دخلوه اول مرة وليتبروا ما علوا تتبيرا ٧
اِنْ
اَحْسَنْتُمْ
اَحْسَنْتُمْ
لِاَنْفُسِكُمْ ۫
وَاِنْ
اَسَاْتُمْ
فَلَهَا ؕ
فَاِذَا
جَآءَ
وَعْدُ
الْاٰخِرَةِ
لِیَسُوْٓءٗا
وُجُوْهَكُمْ
وَلِیَدْخُلُوا
الْمَسْجِدَ
كَمَا
دَخَلُوْهُ
اَوَّلَ
مَرَّةٍ
وَّلِیُتَبِّرُوْا
مَا
عَلَوْا
تَتْبِیْرًا
۟
اگر بھلائی کی تم نے تو بھلا کیا اپنا اور اگر برائی کی تو اپنے لئے 1 پھر جب پہنچا وعدہ دوسرا بھیجے اور بندے کہ اداس کر دیں تمہارے منہ اور گھس جائیں مسجد میں جیسےگھس گئے تھے پہلی بار اور خراب کر دیں جس جگہ غالب ہوں پوری خرابی 2
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
پیشین گوئی ٭٭…
جو کتاب بنی اسرائیل پر اتری تھی اس میں ہی اللہ تعالیٰ نے انہیں پہلے ہی سے خبر دے دی تھی کہ وہ زمین پر دو مرتبہ سرکشی کریں گے اور سخت فساد برپا کریں گے پس یہاں پر «قضینا» کے معنی مقرر کر دینا اور پہلے ہی سے خبر دے دینا کے ہیں۔ جیسے آیت «وَقَضَيْنَا إِلَيْهِ ذَٰلِكَ الْأَمْرَ أَنَّ دَا
پیشین گوئی ٭٭…
جو کتاب بنی اسرائیل پر اتری تھی اس میں ہی اللہ تعالیٰ نے انہیں پہلے ہی سے خبر دے دی تھی کہ وہ زمین پر دو مرتبہ سرکشی کریں گے اور سخت فساد