الإسراء 17:77 سنة من قد ارسلنا قبلك من رسلنا ولا تجد لسنتنا تحويلا ٧٧
سُنَّةَ
مَنْ
قَدْ
اَرْسَلْنَا
قَبْلَكَ
مِنْ
رُّسُلِنَا
وَلَا
تَجِدُ
لِسُنَّتِنَا
تَحْوِیْلًا
۟۠
یہی (ہمارا) طریقہ رہا ان کے باب میں جنہیں ہم نے آپ سے پہلے بھیجا اپنے رسولوں میں سے اور آپ ہمارے طریقے میں کوئی تبدیلی نہیں پائیں گے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
وطنی عصبیت اور یہودی ٭٭…
کہتے ہیں کہ یہودیوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا کہ آپ کو ملک شام چلا جانا چاہیئے وہی نبیوں کا وطن ہے اس شہر مدینہ کو چھوڑ دینا چاہیئے اس پر یہ آیت اتری۔ لیکن یہ قول ضعیف ہے اس لیے کہ یہ آیت مکی ہے اور مدینے میں آپ کی رہائش اس کے بعد ہوئی ہے۔ کہتے ہیں کہ تبوک کے
وطنی عصبیت اور یہودی ٭٭…
کہتے ہیں کہ یہودیوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا کہ آپ کو ملک شام چلا جانا چاہیئے وہی نبیوں کا وطن ہے اس شہر مدی