الإسراء 17:83 واذا انعمنا على الانسان اعرض وناى بجانبه واذا مسه الشر كان ييوسا ٨٣
وَاِذَاۤ
اَنْعَمْنَا
عَلَی
الْاِنْسَانِ
اَعْرَضَ
وَنَاٰ
بِجَانِبِهٖ ۚ
وَاِذَا
مَسَّهُ
الشَّرُّ
كَانَ
یَـُٔوْسًا
۟
انسان کا حال یہ ہے کہ جب ہم اس کو نعمت عطا کرتے ہیں تو وہ اینٹھتا اور پیٹھ موڑ لیتا ہے، اور جب ذرا مصیبت سے دو چار ہوتا ہے تو مایوس ہونے لگتا ہے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
انسانی فطرت میں خیر و شر موجود ہے ٭٭…
خیر و شر برائی بھلائی جو انسان کی فطرت میں ہیں، قرآن کریم ان کو بیان فرما رہا ہے۔ مال، عافیت، فتح، رزق، نصرت، تائید، کشادگی، آرام پاتے ہی نظریں پھیر لیتا ہے۔ اللہ سے دور ہو جاتا ہے گویا اسے کبھی برائی پہنچنے کی ہی نہیں۔ اللہ سے کروٹ بدل لیتا ہے گویا کبھی کی جان پہ
انسانی فطرت میں خیر و شر موجود ہے ٭٭…
خیر و شر برائی بھلائی جو انسان کی فطرت میں ہیں، قرآن کریم ان کو بیان فرما رہا ہے۔ مال، عافیت، فتح، رزق، نصرت، تائی