الجاثية 45:24 وقالوا ما هي الا حياتنا الدنيا نموت ونحيا وما يهلكنا الا الدهر وما لهم بذالك من علم ان هم الا يظنون ٢٤
وَقَالُوْا
مَا
هِیَ
اِلَّا
حَیَاتُنَا
الدُّنْیَا
نَمُوْتُ
وَنَحْیَا
وَمَا
یُهْلِكُنَاۤ
اِلَّا
الدَّهْرُ ۚ
وَمَا
لَهُمْ
بِذٰلِكَ
مِنْ
عِلْمٍ ۚ
اِنْ
هُمْ
اِلَّا
یَظُنُّوْنَ
۟
وہ کہتے ہیں کہ نہیں ہے (کوئی اور زندگی) سوائے ہماری دنیا کی زندگی کے ہم خود ہی مرتے ہیں اور خود ہی جیتے ہیں اور ہمیں نہیں ہلاک کرتا مگر زمانہ حالانکہ ان کے پاس (اس بارے میں) کوئی علم نہیں ہے وہ تو صرف ظن سے کام لے رہے ہیں
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
زمانے کو گالی مت دو ٭٭…
دہریہ کفار اور ان کے ہم عقیدہ مشرکین کا بیان ہو رہا ہے کہ یہ قیامت کے منکر ہیں اور کہتے ہیں کہ دنیا ہی ابتداء اور انتہاء ہے، کچھ جیتے ہیں، کچھ مرتے ہیں، قیامت کوئی چیز نہیں۔
فلاسفہ اور علم کلام کے قائل یہی کہتے تھے یہ لوگ ابتداء اور انتہاء کے قائل نہ تھے اور فلاسفہ میں سے جو ل
زمانے کو گالی مت دو ٭٭…
دہریہ کفار اور ان کے ہم عقیدہ مشرکین کا بیان ہو رہا ہے کہ یہ قیامت کے منکر ہیں اور کہتے ہیں کہ دنیا ہی ابتداء اور انتہاء ہے، کچھ