الجاثية 45:25 واذا تتلى عليهم اياتنا بينات ما كان حجتهم الا ان قالوا ايتوا باباينا ان كنتم صادقين ٢٥
وَاِذَا
تُتْلٰی
عَلَیْهِمْ
اٰیٰتُنَا
بَیِّنٰتٍ
مَّا
كَانَ
حُجَّتَهُمْ
اِلَّاۤ
اَنْ
قَالُوا
ائْتُوْا
بِاٰبَآىِٕنَاۤ
اِنْ
كُنْتُمْ
صٰدِقِیْنَ
۟
اور جب ان کے سامنے ہماری واضح اور روشن آیتوں کی تلاوت کی جاتی ہے، تو ان کے پاس اس قول کے سوا کوئی دلیل نہیں ہوتی کہ اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادوں کو ﻻؤ.1
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
زمانے کو گالی مت دو ٭٭…
دہریہ کفار اور ان کے ہم عقیدہ مشرکین کا بیان ہو رہا ہے کہ یہ قیامت کے منکر ہیں اور کہتے ہیں کہ دنیا ہی ابتداء اور انتہاء ہے، کچھ جیتے ہیں، کچھ مرتے ہیں، قیامت کوئی چیز نہیں۔
فلاسفہ اور علم کلام کے قائل یہی کہتے تھے یہ لوگ ابتداء اور انتہاء کے قائل نہ تھے اور فلاسفہ میں سے جو ل
زمانے کو گالی مت دو ٭٭…
دہریہ کفار اور ان کے ہم عقیدہ مشرکین کا بیان ہو رہا ہے کہ یہ قیامت کے منکر ہیں اور کہتے ہیں کہ دنیا ہی ابتداء اور انتہاء ہے، کچھ