الكهف 18:110 قل انما انا بشر مثلكم يوحى الي انما الاهكم الاه واحد فمن كان يرجو لقاء ربه فليعمل عملا صالحا ولا يشرك بعبادة ربه احدا ١١٠
قُلْ
اِنَّمَاۤ
اَنَا
بَشَرٌ
مِّثْلُكُمْ
یُوْحٰۤی
اِلَیَّ
اَنَّمَاۤ
اِلٰهُكُمْ
اِلٰهٌ
وَّاحِدٌ ۚ
فَمَنْ
كَانَ
یَرْجُوْا
لِقَآءَ
رَبِّهٖ
فَلْیَعْمَلْ
عَمَلًا
صَالِحًا
وَّلَا
یُشْرِكْ
بِعِبَادَةِ
رَبِّهٖۤ
اَحَدًا
۟۠
(اے نبی) آپ کہہ دیجیے کہ میں تو بس تمہاری ہی طرح کا ایک انسان ہوں مجھ پر وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا معبود بس ایک ہی معبود ہے پس جو کوئی بھی امید رکھتا ہو اپنے رب سے ملاقات کی تو اسے چاہیے کہ نیک اعمال کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو بھی شریک نہ کرے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
سید البشر صلی اللہ علیہ وسلم ٭٭…
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ یہ سب سے آخری آیت ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اتری۔ حکم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے فرمائیں کہ میں تم جیسا ہی ایک انسان ہوں، تم بھی انسان ہو، اگر مجھے جھوٹا جانتے ہو تو لاؤ اس قرآن جیسا
سید البشر صلی اللہ علیہ وسلم ٭٭…
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ یہ سب سے آخری آیت ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اتری۔