الكهف 18:26 قل الله اعلم بما لبثوا له غيب السماوات والارض ابصر به واسمع ما لهم من دونه من ولي ولا يشرك في حكمه احدا ٢٦
قُلِ
اللّٰهُ
اَعْلَمُ
بِمَا
لَبِثُوْا ۚ
لَهٗ
غَیْبُ
السَّمٰوٰتِ
وَالْاَرْضِ ؕ
اَبْصِرْ
بِهٖ
وَاَسْمِعْ ؕ
مَا
لَهُمْ
مِّنْ
دُوْنِهٖ
مِنْ
وَّلِیٍّ ؗ
وَّلَا
یُشْرِكُ
فِیْ
حُكْمِهٖۤ
اَحَدًا
۟
کہوکہ اللہ ان کے رہنے کی مدت کو زیادہ جانتا ہے آسمانوں اور زمین کا غیب اس کے علم میں ہے، کیا خوب ہے وہ دیکھنے والا اور سننے والا خدا کے سوا ان کا کوئی مدد گار نہیں اور نہ اللہ کسی کو اپنے اختیار میں شریک کرتا ہے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
اصحاب کہف کتنا سوئے ؟ ٭٭…
اللہ تعالیٰ اپنے نبی علیہ السلام کو اس مدت کی خبر دیتا ہے، جو اصحاب کہف نے اپنے سونے کے زمانے میں گزاری کہ وہ مدت سورج کے حساب سے تین سو سال کی تھی اور چاند کے حساب سے تین سو نو سال کی تھی۔ فی الواقع شمسی اور قمری سال میں سو سال پر تین سال کا فرق پڑتا ہے، اسی لیے تین سو الگ ب
اصحاب کہف کتنا سوئے ؟ ٭٭…
اللہ تعالیٰ اپنے نبی علیہ السلام کو اس مدت کی خبر دیتا ہے، جو اصحاب کہف نے اپنے سونے کے زمانے میں گزاری کہ وہ مدت سورج کے حساب