الكهف 18:28 واصبر نفسك مع الذين يدعون ربهم بالغداة والعشي يريدون وجهه ولا تعد عيناك عنهم تريد زينة الحياة الدنيا ولا تطع من اغفلنا قلبه عن ذكرنا واتبع هواه وكان امره فرطا ٢٨
وَاصْبِرْ
نَفْسَكَ
مَعَ
الَّذِیْنَ
یَدْعُوْنَ
رَبَّهُمْ
بِالْغَدٰوةِ
وَالْعَشِیِّ
یُرِیْدُوْنَ
وَجْهَهٗ
وَلَا
تَعْدُ
عَیْنٰكَ
عَنْهُمْ ۚ
تُرِیْدُ
زِیْنَةَ
الْحَیٰوةِ
الدُّنْیَا ۚ
وَلَا
تُطِعْ
مَنْ
اَغْفَلْنَا
قَلْبَهٗ
عَنْ
ذِكْرِنَا
وَاتَّبَعَ
هَوٰىهُ
وَكَانَ
اَمْرُهٗ
فُرُطًا
۟
اور اپنے آپ کو روکے رکھیے ان لوگوں کے ساتھ جو اپنے رب کو پکارتے ہیں صبح وشام وہ اللہ کی رضا کے طالب ہیں اور آپ کی نگاہیں ان سے ہٹنے نہ پائیں (جس سے لوگوں کو یہ گمان ہونے لگے کہ) آپ دنیوی زندگی کی آرائش و زیبائش چاہتے ہیں اور مت کہنا مانیے ایسے شخص کا جس کا دل ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا ہے اور جو اپنی خواہشات کے پیچھے پڑا ہے اور اس کا معاملہ حد سے متجاوز ہوچکا ہے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
تلاوت و تبلیغ ٭٭…
اللہ کریم اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے کلام کی تلاوت اور اس کی تبلیغ کی ہدایت کرتا ہے، اس کے کلمات کو نہ کوئی بدل سکے نہ ٹال سکے، نہ ادھر ادھر کر سکے، سمجھ لے کہ اس کے سوائے جائے پناہ نہیں، اگر تلاوت و تبلیغ چھوڑ دی تو پھر بچاؤ کی کوئی صورت نہیں۔ جیسے اور جگہ ہے کہ «يَا أَ
تلاوت و تبلیغ ٭٭…
اللہ کریم اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے کلام کی تلاوت اور اس کی تبلیغ کی ہدایت کرتا ہے، اس کے کلمات کو نہ کوئی بدل سکے نہ ٹال