الكهف 18:45 واضرب لهم مثل الحياة الدنيا كماء انزلناه من السماء فاختلط به نبات الارض فاصبح هشيما تذروه الرياح وكان الله على كل شيء مقتدرا ٤٥
وَاضْرِبْ
لَهُمْ
مَّثَلَ
الْحَیٰوةِ
الدُّنْیَا
كَمَآءٍ
اَنْزَلْنٰهُ
مِنَ
السَّمَآءِ
فَاخْتَلَطَ
بِهٖ
نَبَاتُ
الْاَرْضِ
فَاَصْبَحَ
هَشِیْمًا
تَذْرُوْهُ
الرِّیٰحُ ؕ
وَكَانَ
اللّٰهُ
عَلٰی
كُلِّ
شَیْءٍ
مُّقْتَدِرًا
۟
اور ان سے دنیا کی زندگی کی مثال بھی بیان کردو (وہ ایسی ہے) جیسے پانی جسے ہم نے آسمان سے برسایا۔ تو اس کے ساتھ زمین کی روئیدگی مل گئی۔ پھر وہ چورا چورا ہوگئی کہ ہوائیں اسے اڑاتی پھرتی ہیں۔ اور خدا تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
حیات و موت کا نقشہ ٭٭…
دنیا اپنے زوال، فنا، خاتمے اور بردباری کے لحاظ سے مثل آسمانی بارش کے ہے جو زمین کے دانوں وغیرہ سے ملتی ہے اور ہزار ہا پودے لہلہانے لگتے ہیں۔ تروتازگی اور زندگی کے آثار ہر چیز سے ظاہر ہونے لگتے ہیں لیکن کچھ دنوں کے گزرتے ہی وہ سوکھ ساکھ کر چورا چورا ہو جاتے ہیں اور ہوائیں انہیں د
حیات و موت کا نقشہ ٭٭…
دنیا اپنے زوال، فنا، خاتمے اور بردباری کے لحاظ سے مثل آسمانی بارش کے ہے جو زمین کے دانوں وغیرہ سے ملتی ہے اور ہزار ہا پودے لہلہان