الكهف 18:60 واذ قال موسى لفتاه لا ابرح حتى ابلغ مجمع البحرين او امضي حقبا ٦٠
وَاِذْ
قَالَ
مُوْسٰی
لِفَتٰىهُ
لَاۤ
اَبْرَحُ
حَتّٰۤی
اَبْلُغَ
مَجْمَعَ
الْبَحْرَیْنِ
اَوْ
اَمْضِیَ
حُقُبًا
۟
جب کہ موسیٰ نے اپنے نوجوان1 سے کہا کہ میں تو چلتا ہی رہوں گا یہاں تک کہ دو دریاؤں2 کے سنگم پر پہنچوں، خواه مجھے سالہا سال چلنا پڑے.3
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
موسیٰ علیہ السلام اور اللہ کا ایک بندہ ٭٭…
حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ذکر کیا گیا کہ اللہ کا ایک بندہ دو دریا ملنے کی جگہ ہے، اس کے پاس وہ علم ہے جو تمہیں حاصل نہیں، آپ علیہ السلام نے اسی وقت ان سے ملاقات کرنے کی ٹھان لی۔ اب اپنے ساتھی سے فرماتے ہیں کہ میں تو پہنچے بغیر دم نہ لوں گا۔ کہتے ہیں، یہ دو سم
موسیٰ علیہ السلام اور اللہ کا ایک بندہ ٭٭…
حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ذکر کیا گیا کہ اللہ کا ایک بندہ دو دریا ملنے کی جگہ ہے، اس کے پاس وہ علم ہے جو تمہی