الكهف 18:71 فانطلقا حتى اذا ركبا في السفينة خرقها قال اخرقتها لتغرق اهلها لقد جيت شييا امرا ٧١
فَانْطَلَقَا ۥ
حَتّٰۤی
اِذَا
رَكِبَا
فِی
السَّفِیْنَةِ
خَرَقَهَا ؕ
قَالَ
اَخَرَقْتَهَا
لِتُغْرِقَ
اَهْلَهَا ۚ
لَقَدْ
جِئْتَ
شَیْـًٔا
اِمْرًا
۟
پھر وہ دونوں چل پڑے یہاں تک کہ جب وہ دونوں سوار ہوئے ایک کشتی میں تو اس نے اس (کشتی) میں شگاف ڈال دیا موسیٰ نے کہا کیا آپ نے اسے پھاڑ ڈالا ہے تاکہ غرق کردیں اس کے تمام سواروں کو ؟ یہ تو آپ نے بہت ہی غلط کام کیا ہے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
شرائط طے ہو گئیں ٭٭…
دونوں میں جب شرط طے ہو گئی کہ تو سوال نہ کرنا جب تک میں خود ہی اس کی حکمت تجھ پر ظاہر نہ کروں تو دونوں ایک ساتھ چلے۔ پہلے مفصل روایتیں گزر چکی ہیں کہ کشتی والوں نے انہیں پہچان کر بغیر کرایہ لیے سوار کر لیا تھا۔ جب کشتی چلی اور بیچ سمندر میں پہنچی تو خضر علیہ السلام نے ایک تختہ اکھ
شرائط طے ہو گئیں ٭٭…
دونوں میں جب شرط طے ہو گئی کہ تو سوال نہ کرنا جب تک میں خود ہی اس کی حکمت تجھ پر ظاہر نہ کروں تو دونوں ایک ساتھ چلے۔ پہلے مفصل روای