الكهف 18:78 قال هاذا فراق بيني وبينك سانبيك بتاويل ما لم تستطع عليه صبرا ٧٨
قَالَ
هٰذَا
فِرَاقُ
بَیْنِیْ
وَبَیْنِكَ ۚ
سَاُنَبِّئُكَ
بِتَاْوِیْلِ
مَا
لَمْ
تَسْتَطِعْ
عَّلَیْهِ
صَبْرًا
۟
کہا اب جدائی ہے میرے اور تیرے بیچ اب جتلائے دیتا ہوں تجھ کو پھیر ان باتوں کا جس پر تو صبر نہ کر سکا 1
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
ایک اور انوکھی بات ٭٭…
دو دفعہ کے اس واقعہ کے بعد پھر دونوں صاحب مل کر چلے اور ایک بستی میں پہنچے۔ مروی ہے وہ بستی ایک تھی یہاں کے لوگ بڑے ہی بخیل تھے۔ [صحیح مسلم:2380] انتہا یہ کہ دو بھوکے مسافروں کے طلب کرنے پر انہوں نے روٹی کھلانے سے بھی صاف انکار کر دیا۔ وہاں دیکھتے ہیں کہ ایک دیوار گرنا ہی چاہ
ایک اور انوکھی بات ٭٭…
دو دفعہ کے اس واقعہ کے بعد پھر دونوں صاحب مل کر چلے اور ایک بستی میں پہنچے۔ مروی ہے وہ بستی ایک تھی یہاں کے لوگ بڑے ہی بخیل تھے۔