الكهف 18:82 واما الجدار فكان لغلامين يتيمين في المدينة وكان تحته كنز لهما وكان ابوهما صالحا فاراد ربك ان يبلغا اشدهما ويستخرجا كنزهما رحمة من ربك وما فعلته عن امري ذالك تاويل ما لم تسطع عليه صبرا ٨٢
وَاَمَّا
الْجِدَارُ
فَكَانَ
لِغُلٰمَیْنِ
یَتِیْمَیْنِ
فِی
الْمَدِیْنَةِ
وَكَانَ
تَحْتَهٗ
كَنْزٌ
لَّهُمَا
وَكَانَ
اَبُوْهُمَا
صَالِحًا ۚ
فَاَرَادَ
رَبُّكَ
اَنْ
یَّبْلُغَاۤ
اَشُدَّهُمَا
وَیَسْتَخْرِجَا
كَنْزَهُمَا ۖۗ
رَحْمَةً
مِّنْ
رَّبِّكَ ۚ
وَمَا
فَعَلْتُهٗ
عَنْ
اَمْرِیْ ؕ
ذٰلِكَ
تَاْوِیْلُ
مَا
لَمْ
تَسْطِعْ
عَّلَیْهِ
صَبْرًا
۟ؕ۠
اور رہی وہ دیوار تو وہ شہر کے دو یتیم لڑکوں کی تھی اور اس کے نیچے خزانہ تھا ان دونوں کے لیے اور ان کا باپ نیک آدمی تھا لہٰذا آپ کے رب نے چاہا کہ وہ دونوں اپنی جوانی کو پہنچ جائیں اور نکال لیں اپنا خزانہ (یہ سب امور) آپ کے رب کی رحمت سے (طے ہوئے) تھے اور میں نے اپنی رائے سے انہیں سر انجام نہیں دیا یہ ہے اصل حقیقت ان باتوں کی جن پر آپ صبر نہ کرسکے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
اللہ کی حفاظت کا ایک انداز ٭٭…
اس آیت سے ثابت ہوا کہ بڑے شہر پر بھی قریہ کا اطلاق ہو سکتا ہے کیونکہ پہلے «فَانطَلَقَا حَتَّىٰ إِذَا أَتَيَا أَهْلَ قَرْيَةٍ» [ الکھف: 77 ] فرمایا تھا اور یہاں «فِي الْمَدِينَةِ» فرمایا۔ اسی طرح مکہ شریف کو بھی قریہ کہا گیا ہے۔ فرمان ہے «وَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ
اللہ کی حفاظت کا ایک انداز ٭٭…
اس آیت سے ثابت ہوا کہ بڑے شہر پر بھی قریہ کا اطلاق ہو سکتا ہے کیونکہ پہلے «فَانطَلَقَا حَتَّىٰ إِذَا أَتَيَا أَهْلَ قَرْ