المائدة 5:114 قال عيسى ابن مريم اللهم ربنا انزل علينا مايدة من السماء تكون لنا عيدا لاولنا واخرنا واية منك وارزقنا وانت خير الرازقين ١١٤
قَالَ
عِیْسَی
ابْنُ
مَرْیَمَ
اللّٰهُمَّ
رَبَّنَاۤ
اَنْزِلْ
عَلَیْنَا
مَآىِٕدَةً
مِّنَ
السَّمَآءِ
تَكُوْنُ
لَنَا
عِیْدًا
لِّاَوَّلِنَا
وَاٰخِرِنَا
وَاٰیَةً
مِّنْكَ ۚ
وَارْزُقْنَا
وَاَنْتَ
خَیْرُ
الرّٰزِقِیْنَ
۟
Ispar Isa ibn-e-Mariyam ne dua ki “ khudaya ! hamare Rubb! Humpar aasman se ek khwan nazil kar jo hamare liye aur hamare aglon pichlon ke liye khushi ka mauqa qaraar paye aur teri taraf se ek nishani ho, humko rizq de aur tu behtareen raziq hai”
تفسیر پڑھیں
Tafsir Ibn Kathir
باب…
اب عیسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔ عید ہونے سے مراد تو عید کا دن یا نماز گزار نے کا دن ہونا ہے یا اپنے بعد والوں کے لیے یادگار کا دن ہونا ہے یا اپنی اور اپنے بعد کی نسلوں کیلئے نصیحت و عبرت ہونا ہے یا اگلوں پچھلوں کے لیے کافی وافی ہونا ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں ”یا اللہ یہ تیری
باب…
اب عیسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔ عید ہونے سے مراد تو عید کا دن یا نماز گزار نے کا دن ہونا ہے یا اپنے بعد والوں کے لیے یادگار کا دن ہو