المائدة 5:27 ۞ واتل عليهم نبا ابني ادم بالحق اذ قربا قربانا فتقبل من احدهما ولم يتقبل من الاخر قال لاقتلنك قال انما يتقبل الله من المتقين ٢٧
وَاتْلُ
عَلَیْهِمْ
نَبَاَ
ابْنَیْ
اٰدَمَ
بِالْحَقِّ ۘ
اِذْ
قَرَّبَا
قُرْبَانًا
فَتُقُبِّلَ
مِنْ
اَحَدِهِمَا
وَلَمْ
یُتَقَبَّلْ
مِنَ
الْاٰخَرِ ؕ
قَالَ
لَاَقْتُلَنَّكَ ؕ
قَالَ
اِنَّمَا
یَتَقَبَّلُ
اللّٰهُ
مِنَ
الْمُتَّقِیْنَ
۟
آدم (علیہ السلام) کے دونوں بیٹوں کا کھرا کھرا حال بھی انہیں سنا دو1 ، ان دونوں نے ایک نذرانہ پیش کیا، ان میں سے ایک کی نذر تو قبول ہوگئی اور دوسرے کی مقبول نہ ہوئی2 تو وه کہنے لگا کہ میں تجھے مار ہی ڈالوں گا، اس نے کہا اللہ تعالیٰ تقویٰ والوں کا ہی عمل قبول کرتا ہے۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
حسد و بغض سے ممانعت ٭٭…
اس قصے میں حسد و بغض سرکشی اور تکبر کا بدانجام بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح کے دو صلبی بیٹوں میں کشمکش ہو گئی اور ایک اللہ کا ہو کر مظلوم بنا اور مار ڈالا گیا اور اپنا ٹھکانا جنت میں بنا لیا اور دوسرے نے اسے ظلم و زیادتی کے ساتھ بے وجہ قتل کیا اور دونوں جہان میں برباد ہوا۔
فرماتا
حسد و بغض سے ممانعت ٭٭…
اس قصے میں حسد و بغض سرکشی اور تکبر کا بدانجام بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح کے دو صلبی بیٹوں میں کشمکش ہو گئی اور ایک اللہ کا ہو کر