المائدة 5:3 حرمت عليكم الميتة والدم ولحم الخنزير وما اهل لغير الله به والمنخنقة والموقوذة والمتردية والنطيحة وما اكل السبع الا ما ذكيتم وما ذبح على النصب وان تستقسموا بالازلام ذالكم فسق اليوم ييس الذين كفروا من دينكم فلا تخشوهم واخشون اليوم اكملت لكم دينكم واتممت عليكم نعمتي ورضيت لكم الاسلام دينا فمن اضطر في مخمصة غير متجانف لاثم فان الله غفور رحيم ٣
حُرِّمَتْ
عَلَیْكُمُ
الْمَیْتَةُ
وَالدَّمُ
وَلَحْمُ
الْخِنْزِیْرِ
وَمَاۤ
اُهِلَّ
لِغَیْرِ
اللّٰهِ
بِهٖ
وَالْمُنْخَنِقَةُ
وَالْمَوْقُوْذَةُ
وَالْمُتَرَدِّیَةُ
وَالنَّطِیْحَةُ
وَمَاۤ
اَكَلَ
السَّبُعُ
اِلَّا
مَا
ذَكَّیْتُمْ ۫
وَمَا
ذُبِحَ
عَلَی
النُّصُبِ
وَاَنْ
تَسْتَقْسِمُوْا
بِالْاَزْلَامِ ؕ
ذٰلِكُمْ
فِسْقٌ ؕ
اَلْیَوْمَ
یَىِٕسَ
الَّذِیْنَ
كَفَرُوْا
مِنْ
دِیْنِكُمْ
فَلَا
تَخْشَوْهُمْ
وَاخْشَوْنِ ؕ
اَلْیَوْمَ
اَكْمَلْتُ
لَكُمْ
دِیْنَكُمْ
وَاَتْمَمْتُ
عَلَیْكُمْ
نِعْمَتِیْ
وَرَضِیْتُ
لَكُمُ
الْاِسْلَامَ
دِیْنًا ؕ
فَمَنِ
اضْطُرَّ
فِیْ
مَخْمَصَةٍ
غَیْرَ
مُتَجَانِفٍ
لِّاِثْمٍ ۙ
فَاِنَّ
اللّٰهَ
غَفُوْرٌ
رَّحِیْمٌ
۟
تم پر حرام کیا گیا مردار اور خون اور خنزیر کا گوشت اور جس پر اللہ کے سوا دوسرے کا نام پکارا گیا ہو1 اور جو گلا گھٹنے سے مرا ہو2 اور جو کسی ضرب سے مر گیا ہو3 اور جو اونچی جگہ سے گر کر مرا ہو4 اور جو کسی کے سینگ مارنے سے مرا ہو5 اور جسے درندوں نے پھاڑ کھایا ہو6 لیکن اسے تم ذبح کر ڈالو تو حرام نہیں7 اور جو آستانوں پر ذبح کیا گیا ہو8 اور یہ بھی کہ قرعہ کے تیروں کے ذریعے فال گیری کرو9 یہ سب بدترین گناه ہیں، آج کفار تمہارے دین سے ناامید ہوگئے، خبردار! تم ان سے نہ ڈرنا اور مجھ سے ڈرتے رہنا، آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کردیا اور تم پر اپنا انعام بھرپور کردیا اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہوگیا۔ پس جو شخص شدت کی بھوک میں بے قرار ہو جائے بشرطیکہ کسی گناه کی طرف اس کا میلان نہ ہو تو یقیناً اللہ تعالیٰ معاف کرنے واﻻ اور بہت بڑا مہربان ہے۔10
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
باب…
شیخ ابوعلی افصاح رحمہ اللہ میں فرماتے ہیں ”جب ہم نے یہ طے کر لیا کہ اس شکار کا کھانا حرام ہے جس میں سے شکاری کتے نے کھا لیا ہو تو جس شکار میں سے شکاری پرند کھالے اس میں دو وجوہات ہیں۔“ لیکن قاضی ابو الطیب نے اس فرع کا اور اس ترتیب سے انکار کیا ہے۔ کیونکہ امام شافعی نے ان دونوں کو صاف لفظوں میں ب
باب…
شیخ ابوعلی افصاح رحمہ اللہ میں فرماتے ہیں ”جب ہم نے یہ طے کر لیا کہ اس شکار کا کھانا حرام ہے جس میں سے شکاری کتے نے کھا لیا ہو تو جس شکار میں سے شک