المائدة 5:36 ان الذين كفروا لو ان لهم ما في الارض جميعا ومثله معه ليفتدوا به من عذاب يوم القيامة ما تقبل منهم ولهم عذاب اليم ٣٦
اِنَّ
الَّذِیْنَ
كَفَرُوْا
لَوْ
اَنَّ
لَهُمْ
مَّا
فِی
الْاَرْضِ
جَمِیْعًا
وَّمِثْلَهٗ
مَعَهٗ
لِیَفْتَدُوْا
بِهٖ
مِنْ
عَذَابِ
یَوْمِ
الْقِیٰمَةِ
مَا
تُقُبِّلَ
مِنْهُمْ ۚ
وَلَهُمْ
عَذَابٌ
اَلِیْمٌ
۟
خوب جان لو کہ جن لوگوں نے کفر کا رویہ اختیار کیا ہے، اگر اُن کے قبضہ میں ساری زمین کی دولت ہو اور اتنی ہی اور اس کے ساتھ، اور وہ چاہیں کہ اسے فدیہ میں دے کر روز قیامت کے عذاب سے بچ جائیں، تب بھی وہ ان سے قبول نہ کی جائے گی اور انہیں درد ناک سزا مل کر رہے گی
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
تقویٰ قربت الٰہی کی بنیاد ہے ٭٭…
تقوے کا حکم ہو رہا ہے اور وہ بھی اطاعت سے ملا ہوا۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کے منع کردہ کاموں سے جو شخص رکا رہے، اس کی طرف قربت یعنی نزدیکی تلاش کرے۔ وسیلے کے یہی معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے منقول ہیں۔ مجاہد، وائل، حسن، ابن زید رحمة الله علیہم اور بہت سے مفسرین سے بھ
تقویٰ قربت الٰہی کی بنیاد ہے ٭٭…
تقوے کا حکم ہو رہا ہے اور وہ بھی اطاعت سے ملا ہوا۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کے منع کردہ کاموں سے جو شخص رکا رہے، اس کی طرف قر