المائدة 5:41 ۞ يا ايها الرسول لا يحزنك الذين يسارعون في الكفر من الذين قالوا امنا بافواههم ولم تومن قلوبهم ومن الذين هادوا سماعون للكذب سماعون لقوم اخرين لم ياتوك يحرفون الكلم من بعد مواضعه يقولون ان اوتيتم هاذا فخذوه وان لم توتوه فاحذروا ومن يرد الله فتنته فلن تملك له من الله شييا اولايك الذين لم يرد الله ان يطهر قلوبهم لهم في الدنيا خزي ولهم في الاخرة عذاب عظيم ٤١
یٰۤاَیُّهَا
الرَّسُوْلُ
لَا
یَحْزُنْكَ
الَّذِیْنَ
یُسَارِعُوْنَ
فِی
الْكُفْرِ
مِنَ
الَّذِیْنَ
قَالُوْۤا
اٰمَنَّا
بِاَفْوَاهِهِمْ
وَلَمْ
تُؤْمِنْ
قُلُوْبُهُمْ ۛۚ
وَمِنَ
الَّذِیْنَ
هَادُوْا ۛۚ
سَمّٰعُوْنَ
لِلْكَذِبِ
سَمّٰعُوْنَ
لِقَوْمٍ
اٰخَرِیْنَ ۙ
لَمْ
یَاْتُوْكَ ؕ
یُحَرِّفُوْنَ
الْكَلِمَ
مِنْ
بَعْدِ
مَوَاضِعِهٖ ۚ
یَقُوْلُوْنَ
اِنْ
اُوْتِیْتُمْ
هٰذَا
فَخُذُوْهُ
وَاِنْ
لَّمْ
تُؤْتَوْهُ
فَاحْذَرُوْا ؕ
وَمَنْ
یُّرِدِ
اللّٰهُ
فِتْنَتَهٗ
فَلَنْ
تَمْلِكَ
لَهٗ
مِنَ
اللّٰهِ
شَیْـًٔا ؕ
اُولٰٓىِٕكَ
الَّذِیْنَ
لَمْ
یُرِدِ
اللّٰهُ
اَنْ
یُّطَهِّرَ
قُلُوْبَهُمْ ؕ
لَهُمْ
فِی
الدُّنْیَا
خِزْیٌ ۖۚ
وَّلَهُمْ
فِی
الْاٰخِرَةِ
عَذَابٌ
عَظِیْمٌ
۟
اے پیغمبرؐ ! تمہارے لیے باعث رنج نہ ہوں وہ لوگ جو کفر کی راہ میں بڑی تیزگامی دکھا رہے ہیں۔1 خواہ وہ اُن میں سے ہوں جو منّہ سے کہتے ہیں، ہم ایمان لائے مگر دل اُن کے ایمان نہیں لائے، یا اُن میں سے ہوں جو یہودی بن گئے ہیں، جن کا حال یہ ہے کہ جُھوٹ کے لیے کان لگاتے ہیں،2 اور دُوسرے لوگوں کی خاطر، جو تمہارے پاس کبھی نہیں آئے، سُن گُن لیتے پھرتے ہیں،3 کتاب اللہ کے الفاظ کو اُن کا صحیح محل متعیّن ہونے کے باوجود اصل معنی سے پھیرتے ہیں،4 اور لوگوں سے کہتے ہیں کہ اگر تمہیں یہ حکم دیا جائے تو مانو، نہیں تو نہ مانو۔5 جسے اللہ ہی نے فتنہ میں ڈالنے کا ارادہ کرلیاہو اس کو اللہ کی گرفت سے بچانے کے لیے تم کچھ نہیں کرسکتے،6یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے پاک کرنا نہ چاہا،7 ان کے لیے دُنیا میں رُسوائی ہے اور آخرت میں سخت سزا
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
جھوٹ سننے اور کہنے کے عادی لوگ ٭٭…
ان آیتوں میں ان لوگوں کی مذمت بیان ہو رہی ہے، جو رائے، قیاس اور خواہش نفسانی کو اللہ کی شریعت پر مقدم رکھتے ہیں۔ اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے نکل کر کفر کی طرف دوڑتے بھاگتے رہتے ہیں۔ گویہ لوگ زبانی ایمان کے دعوے کریں لیکن ان کا دل ایمان سے خالی ہے۔ من
جھوٹ سننے اور کہنے کے عادی لوگ ٭٭…
ان آیتوں میں ان لوگوں کی مذمت بیان ہو رہی ہے، جو رائے، قیاس اور خواہش نفسانی کو اللہ کی شریعت پر مقدم رکھتے ہیں۔ اللہ