المائدة 5:42 سماعون للكذب اكالون للسحت فان جاءوك فاحكم بينهم او اعرض عنهم وان تعرض عنهم فلن يضروك شييا وان حكمت فاحكم بينهم بالقسط ان الله يحب المقسطين ٤٢
سَمّٰعُوْنَ
لِلْكَذِبِ
اَكّٰلُوْنَ
لِلسُّحْتِ ؕ
فَاِنْ
جَآءُوْكَ
فَاحْكُمْ
بَیْنَهُمْ
اَوْ
اَعْرِضْ
عَنْهُمْ ۚ
وَاِنْ
تُعْرِضْ
عَنْهُمْ
فَلَنْ
یَّضُرُّوْكَ
شَیْـًٔا ؕ
وَاِنْ
حَكَمْتَ
فَاحْكُمْ
بَیْنَهُمْ
بِالْقِسْطِ ؕ
اِنَّ
اللّٰهَ
یُحِبُّ
الْمُقْسِطِیْنَ
۟
یہ کان لگا لگا کر جھوٹ کے سننے والے1 اور جی بھر بھر کر حرام کے کھانے والے ہیں، اگر یہ تمہارے پاس آئیں تو تمہیں اختیار ہے خواه ان کے آپس کا فیصلہ کرو خواه ان کو ٹال دو، اگر تم ان سے منھ بھی پھیرو گے تو بھی یہ تم کو ہرگز کوئی ضرر نہیں پہنچا سکتے، اور اگر تم فیصلہ کرو تو ان میں عدل وانصاف کے ساتھ فیصلہ کرو، یقیناً عدل والوں کے ساتھ اللہ محبت رکھتا ہے۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
جھوٹ سننے اور کہنے کے عادی لوگ ٭٭…
ان آیتوں میں ان لوگوں کی مذمت بیان ہو رہی ہے، جو رائے، قیاس اور خواہش نفسانی کو اللہ کی شریعت پر مقدم رکھتے ہیں۔ اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے نکل کر کفر کی طرف دوڑتے بھاگتے رہتے ہیں۔ گویہ لوگ زبانی ایمان کے دعوے کریں لیکن ان کا دل ایمان سے خالی ہے۔ من
جھوٹ سننے اور کہنے کے عادی لوگ ٭٭…
ان آیتوں میں ان لوگوں کی مذمت بیان ہو رہی ہے، جو رائے، قیاس اور خواہش نفسانی کو اللہ کی شریعت پر مقدم رکھتے ہیں۔ اللہ