المائدة 5:82 ۞ لتجدن اشد الناس عداوة للذين امنوا اليهود والذين اشركوا ولتجدن اقربهم مودة للذين امنوا الذين قالوا انا نصارى ذالك بان منهم قسيسين ورهبانا وانهم لا يستكبرون ٨٢
لَتَجِدَنَّ
اَشَدَّ
النَّاسِ
عَدَاوَةً
لِّلَّذِیْنَ
اٰمَنُوا
الْیَهُوْدَ
وَالَّذِیْنَ
اَشْرَكُوْا ۚ
وَلَتَجِدَنَّ
اَقْرَبَهُمْ
مَّوَدَّةً
لِّلَّذِیْنَ
اٰمَنُوا
الَّذِیْنَ
قَالُوْۤا
اِنَّا
نَصٰرٰی ؕ
ذٰلِكَ
بِاَنَّ
مِنْهُمْ
قِسِّیْسِیْنَ
وَرُهْبَانًا
وَّاَنَّهُمْ
لَا
یَسْتَكْبِرُوْنَ
۟
تم لازماً پاؤ گے اہل ایمان کے حق میں شدید ترین دشمن یہود کو اور ان کو جو مشرک ہیں اور تم لازماً پاؤ گے مودّت کے اعتبار سے قریب ترین اہل ایمان کے حق میں ان لوگوں کو جنہوں نے کہا کہ ہم نصاریٰ ہیں یہ اس لیے کہ ان (عیسائیوں) میں عالم بھی موجود ہیں اور درویش بھی اور (اس لیے بھی کہ) وہ تکبر نہیں کرتے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
یہودیوں کا تاریخی کردار ٭٭…
یہ آیت اور اس کے بعد کی چار آیتیں نجاشی اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں اتری ہیں۔ جب ان کے سامنے حبشہ کے ملک میں جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے قرآن کریم پڑھا تو ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور ان کی داڑھیاں تر ہو گئیں۔ یہ خیال رہے کہ یہ آیتیں مدینے میں اتری ہیں اور جعفر
یہودیوں کا تاریخی کردار ٭٭…
یہ آیت اور اس کے بعد کی چار آیتیں نجاشی اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں اتری ہیں۔ جب ان کے سامنے حبشہ کے ملک میں جعفر بن ابوطا