المائدة 5:95 يا ايها الذين امنوا لا تقتلوا الصيد وانتم حرم ومن قتله منكم متعمدا فجزاء مثل ما قتل من النعم يحكم به ذوا عدل منكم هديا بالغ الكعبة او كفارة طعام مساكين او عدل ذالك صياما ليذوق وبال امره عفا الله عما سلف ومن عاد فينتقم الله منه والله عزيز ذو انتقام ٩٥
یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا
لَا
تَقْتُلُوا
الصَّیْدَ
وَاَنْتُمْ
حُرُمٌ ؕ
وَمَنْ
قَتَلَهٗ
مِنْكُمْ
مُّتَعَمِّدًا
فَجَزَآءٌ
مِّثْلُ
مَا
قَتَلَ
مِنَ
النَّعَمِ
یَحْكُمُ
بِهٖ
ذَوَا
عَدْلٍ
مِّنْكُمْ
هَدْیًا
بٰلِغَ
الْكَعْبَةِ
اَوْ
كَفَّارَةٌ
طَعَامُ
مَسٰكِیْنَ
اَوْ
عَدْلُ
ذٰلِكَ
صِیَامًا
لِّیَذُوْقَ
وَبَالَ
اَمْرِهٖ ؕ
عَفَا
اللّٰهُ
عَمَّا
سَلَفَ ؕ
وَمَنْ
عَادَ
فَیَنْتَقِمُ
اللّٰهُ
مِنْهُ ؕ
وَاللّٰهُ
عَزِیْزٌ
ذُو
انْتِقَامٍ
۟
اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اِحرام کی حالت میں شکار نہ مارو،1 اور اگر تم میں سے کوئی جان بوجھ کر ایسا کر گزرے تو جو جانور اس نے مارا ہو اُسی کے ہم پلّہ ایک جانور اُسے مویشیوں میں سے نذر دینا ہوگا جس کا فیصلہ تم میں سے دو عادل آدمی کریں گے، اور یہ نذرانہ کعبہ پہنچایا جائے گا، یا نہیں تو اس گناہ کے کفارہ میں چند مسکینوں کو کھانا کھلانا ہوگا، یا اس کے بقدر روزے رکھنے ہوں گے،2 تاکہ وہ اپنے کیے کا مزہ چکھے۔ پہلے جو کچھ ہو چکا اُسے اللہ نے معاف کردیا، لیکن اب اگر کسی نے اس حرکت کا اعادہ کیا تو اس سے اللہ بدلہ لے گا، اللہ سب پر غالب ہے اور بدلہ لینے کی طاقت رکھتا ہے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
احرام میں شکار کے مسائل کی تفصیلات ٭٭…
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں چھوٹے چھوٹے شکار اور کمزور شکار اور ان کے بچے جنہیں انسان اپنے ہاتھ سے پکڑلے اور اپنے نیزے کی نوک پر رکھ لے اس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی آزمائش کرے گا۔ یعنی انہیں منع فرمایا ہے کہ تم باوجود اس کے بھی ان کا شکار حالت احرام
احرام میں شکار کے مسائل کی تفصیلات ٭٭…
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں چھوٹے چھوٹے شکار اور کمزور شکار اور ان کے بچے جنہیں انسان اپنے ہاتھ سے پکڑ