المائدة 5:97 ۞ جعل الله الكعبة البيت الحرام قياما للناس والشهر الحرام والهدي والقلايد ذالك لتعلموا ان الله يعلم ما في السماوات وما في الارض وان الله بكل شيء عليم ٩٧
جَعَلَ
اللّٰهُ
الْكَعْبَةَ
الْبَیْتَ
الْحَرَامَ
قِیٰمًا
لِّلنَّاسِ
وَالشَّهْرَ
الْحَرَامَ
وَالْهَدْیَ
وَالْقَلَآىِٕدَ ؕ
ذٰلِكَ
لِتَعْلَمُوْۤا
اَنَّ
اللّٰهَ
یَعْلَمُ
مَا
فِی
السَّمٰوٰتِ
وَمَا
فِی
الْاَرْضِ
وَاَنَّ
اللّٰهَ
بِكُلِّ
شَیْءٍ
عَلِیْمٌ
۟
اللہ نے کعبے کو جو کہ بیت الحرام ہے لوگوں کے قیام کا باعث بنا دیا ہے اور حرمت والا مہینہ قربانی کے جانور اور وہ جانور بھی جن کے گلوں میں پٹے ڈال دیے گئے ہوں یہ اس لیے کہ تم اچھی طرح جان لو کہ اللہ تعالیٰ کو آسمانوں اور زمین کی ہر شے کا علم ہے اور یہ کہ اللہ ہر شے کا علم رکھتا ہے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
طعام اور شکار میں فرق اور حلال کی مزید تشریحات ٭٭…
دریائی شکار سے مراد تازہ پکڑے ہوئے جانور اور طعام سے مراد ہے ان کا جو گوشت سکھا کر نمکین بطور توشے کے ساتھ رکھا جاتا ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ پانی میں سے جو زندہ پکڑا جائے وہ صید یعنی شکار ہے اور جو مردہ ہو کر باہر نکل آئے وہ طعام یعنی کھانا ہے۔ سیدنا اب
طعام اور شکار میں فرق اور حلال کی مزید تشریحات ٭٭…
دریائی شکار سے مراد تازہ پکڑے ہوئے جانور اور طعام سے مراد ہے ان کا جو گوشت سکھا کر نمکین بطور توشے کے