المدثر 74:31 وما جعلنا اصحاب النار الا ملايكة وما جعلنا عدتهم الا فتنة للذين كفروا ليستيقن الذين اوتوا الكتاب ويزداد الذين امنوا ايمانا ولا يرتاب الذين اوتوا الكتاب والمومنون وليقول الذين في قلوبهم مرض والكافرون ماذا اراد الله بهاذا مثلا كذالك يضل الله من يشاء ويهدي من يشاء وما يعلم جنود ربك الا هو وما هي الا ذكرى للبشر ٣١
وَمَا
جَعَلْنَاۤ
اَصْحٰبَ
النَّارِ
اِلَّا
مَلٰٓىِٕكَةً ۪
وَّمَا
جَعَلْنَا
عِدَّتَهُمْ
اِلَّا
فِتْنَةً
لِّلَّذِیْنَ
كَفَرُوْا ۙ
لِیَسْتَیْقِنَ
الَّذِیْنَ
اُوْتُوا
الْكِتٰبَ
وَیَزْدَادَ
الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْۤا
اِیْمَانًا
وَّلَا
یَرْتَابَ
الَّذِیْنَ
اُوْتُوا
الْكِتٰبَ
وَالْمُؤْمِنُوْنَ ۙ
وَلِیَقُوْلَ
الَّذِیْنَ
فِیْ
قُلُوْبِهِمْ
مَّرَضٌ
وَّالْكٰفِرُوْنَ
مَاذَاۤ
اَرَادَ
اللّٰهُ
بِهٰذَا
مَثَلًا ؕ
كَذٰلِكَ
یُضِلُّ
اللّٰهُ
مَنْ
یَّشَآءُ
وَیَهْدِیْ
مَنْ
یَّشَآءُ ؕ
وَمَا
یَعْلَمُ
جُنُوْدَ
رَبِّكَ
اِلَّا
هُوَ ؕ
وَمَا
هِیَ
اِلَّا
ذِكْرٰی
لِلْبَشَرِ
۟۠
ہم نے دوزخ کے یہ کارکن فرشتے بنائے ہیں ، اور ان کی تعداد کو کافروں کے لئے فتنہ بنادیا ہے ، تاکہ اہل کتاب کو یقین آجائے اور ایمان لانے والوں کا ایمان بڑھے ، اور اہل کتاب اور مومنین کسی شک میں نہ رہیں ، اور دل کے بیمار اور کفار یہ کہیں کہ بھلا اللہ کا اس عجیب بات سے کیا مطلب ہوسکتا ہے۔ اس طرح اللہ جسے چاہتا ہے گمراہ کردیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ، ہدایت بخش دیتا ہے اور تیرے رب کے لشکروں کو خود اس کے سوا کوئی نہیں جانتا…. اور اس دوزخ کا ذکر اس کے سوا کسی غرض کے لئے نہیں کیا گیا ہے کہ لوگوں کو اس سے نصیحت ہو “۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
سخت دل بےرحم فرشتے اور ابو جہل ٭٭…
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” عذاب دینے پر اور جہنم کی نگہبانی پر ہم نے فرشتے ہی مقرر کئے ہیں جو سخت بے رحم اور سخت کلامی کرنے والے ہیں “۔
اس میں مشرکین قریش کی تردید ہے انہیں جس وقت جہنم کے داروغوں کی گنتی بتلائی گئی تو ابوجہل نے کہا: اے قریشیوں یہ اگر انیس ہیں تو زیا
سخت دل بےرحم فرشتے اور ابو جہل ٭٭…
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” عذاب دینے پر اور جہنم کی نگہبانی پر ہم نے فرشتے ہی مقرر کئے ہیں جو سخت بے رحم اور سخت کلام