الملك 67:19 اولم يروا الى الطير فوقهم صافات ويقبضن ما يمسكهن الا الرحمان انه بكل شيء بصير ١٩
اَوَلَمْ
یَرَوْا
اِلَی
الطَّیْرِ
فَوْقَهُمْ
صٰٓفّٰتٍ
وَّیَقْبِضْنَ ؔؕۘ
مَا
یُمْسِكُهُنَّ
اِلَّا
الرَّحْمٰنُ ؕ
اِنَّهٗ
بِكُلِّ
شَیْءٍ
بَصِیْرٌ
۟
کیا یہ اپنے اوپر پر کھولے ہوئے اور (کبھی کبھی) سمیٹے ہوئے (اڑنے والے) پرندوں کو نہیں دیکھتے1 ، انہیں (اللہ) رحمٰن ہی (ہوا وفضا میں) تھامے ہوئے ہے2۔ بیشک ہر چیز اس کی نگاه میں ہے.
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
وہ لا انتہا عفو و مغفرت کا مالک بھی اور گرفت پر قادر بھی ہے ٭٭…
ان آیتوں میں بھی اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے لطف و رحمت کا بیان فرما رہا ہے کہ ” لوگوں کے کفر و شرک کی بناء پر وہ طرح طرح کے دنیوی عذاب پر بھی قادر ہے لیکن اس کا علم اور عفو ہے کہ وہ عذاب نہیں کرتا “۔
جیسے اور جگہ فرمایا «وَلَوْ يُؤَاخِذُ
وہ لا انتہا عفو و مغفرت کا مالک بھی اور گرفت پر قادر بھی ہے ٭٭…
ان آیتوں میں بھی اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے لطف و رحمت کا بیان فرما رہا ہے کہ ” لوگوں کے ک