الملك 67:8 تكاد تميز من الغيظ كلما القي فيها فوج سالهم خزنتها الم ياتكم نذير ٨
تَكَادُ
تَمَیَّزُ
مِنَ
الْغَیْظِ ؕ
كُلَّمَاۤ
اُلْقِیَ
فِیْهَا
فَوْجٌ
سَاَلَهُمْ
خَزَنَتُهَاۤ
اَلَمْ
یَاْتِكُمْ
نَذِیْرٌ
۟
قریب ہے کہ (ابھی) غصے کے مارے پھٹ جائے1 ، جب کبھی اس میں کوئی گروه ڈاﻻ جائے گا اس سے جہنم کے داروغے پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس ڈرانے واﻻ کوئی نہیں آیا تھا؟
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
جہنم کا داروغہ سوال کرے گا ٭٭…
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ” جو بھی اس کے ساتھ کفر کرے، وہ جہنمی ہے اس کا انجام اور جگہ بد سے بد ہے “۔ یہ بلند اور مکروہ گدھے کی سی آوازیں مارنے والی جہنم ہے جو ان پر جل رہی ہے، اور جوش و غضب سے اس طرح کچ کچا رہی ہے کہ گویا ابھی ٹوٹ پھوٹ جائے گی، اور دوزخیوں کو زیادہ ذلی
جہنم کا داروغہ سوال کرے گا ٭٭…
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ” جو بھی اس کے ساتھ کفر کرے، وہ جہنمی ہے اس کا انجام اور جگہ بد سے بد ہے “۔ یہ بلند اور مکروہ