الملك 67:9 قالوا بلى قد جاءنا نذير فكذبنا وقلنا ما نزل الله من شيء ان انتم الا في ضلال كبير ٩
قَالُوْا
بَلٰی
قَدْ
جَآءَنَا
نَذِیْرٌ ۙ۬
فَكَذَّبْنَا
وَقُلْنَا
مَا
نَزَّلَ
اللّٰهُ
مِنْ
شَیْءٍ ۖۚ
اِنْ
اَنْتُمْ
اِلَّا
فِیْ
ضَلٰلٍ
كَبِیْرٍ
۟
وہ کہیں گے کیوں نہیں ! ہمارے پاس خبردار کرنے والا آیا تھا لیکن ہم نے اسے جھٹلا دیا اور ہم نے کہا کہ اللہ نے کوئی شے نہیں اتاری۔ تم تو کھلی گمراہی میں مبتلا ہوگئے ہو۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
جہنم کا داروغہ سوال کرے گا ٭٭…
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ” جو بھی اس کے ساتھ کفر کرے، وہ جہنمی ہے اس کا انجام اور جگہ بد سے بد ہے “۔ یہ بلند اور مکروہ گدھے کی سی آوازیں مارنے والی جہنم ہے جو ان پر جل رہی ہے، اور جوش و غضب سے اس طرح کچ کچا رہی ہے کہ گویا ابھی ٹوٹ پھوٹ جائے گی، اور دوزخیوں کو زیادہ ذلی
جہنم کا داروغہ سوال کرے گا ٭٭…
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ” جو بھی اس کے ساتھ کفر کرے، وہ جہنمی ہے اس کا انجام اور جگہ بد سے بد ہے “۔ یہ بلند اور مکروہ