المؤمنون 23:99 حتى اذا جاء احدهم الموت قال رب ارجعون ٩٩
حَتّٰۤی
اِذَا
جَآءَ
اَحَدَهُمُ
الْمَوْتُ
قَالَ
رَبِّ
ارْجِعُوْنِ
۟ۙ
(یہ لوگ اپنی کرنی سے باز نہ آئیں گے)یہاں تک کہ جب اِن میں سے کسی کو موت آجائے گی تو کہنا شروع کرے گا کہ”اے میرے ربّ، مجھے اُسی دنیا میں واپس بھیج دیجیے 1 جسے میں چھوڑ آیا ہوں
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
بعد از مرگ ٭٭…
بیان ہو رہا ہے کہ موت کے وقت کفار اور بدترین گناہگار سخت نادم ہوتے ہیں اور حسرت و افسوس کے ساتھ آرزو کرتے ہیں کہ کاش کہ ہم دنیا کی طرف لوٹائے جائیں۔ تاکہ ہم نیک اعمال کر لیں۔ لیکن اس وقت وہ امید فضول، یہ آرزو لا حاصل ہے چنانچہ سورۃ المنافقون میں فرمایا جو ہم نے دیا ہے ہماری راہ میں دیتے
بعد از مرگ ٭٭…
بیان ہو رہا ہے کہ موت کے وقت کفار اور بدترین گناہگار سخت نادم ہوتے ہیں اور حسرت و افسوس کے ساتھ آرزو کرتے ہیں کہ کاش کہ ہم دنیا کی طرف لو